مغربی میڈیا کی طرف سے موسم کے حوالے سے ایسی رپورٹیں مل رہی ہیں جو انتہائی تشویشنا ک قرار دی جاسکتی ہیں ۔گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ باپت اسپیس سڈیڈیز کے ناسا کے اعلیٰ موسمیاتی ماہرگیون شمٹ نے خبردار کیا ہے کہ جولائی یعنی رواں مہینہ ا س صدی کا سب سے گرم ترین مہینہ بننے جارہا ہے ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا کے ماہر موسمیات گیون شمٹ کا کہنا ہے کہ مسلسل گرمی کی لہر کرہ ارض پر بڑے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جس سے درجہ حرارت کے کئی سابق ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں ۔گیون شمٹ نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں بے مثال موسمیاتی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں ۔امریکہ اور یورپ کے علاوہ چین میں گرمی کی لہر نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں ۔ناسا کے ماہرین موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ یہ تمام اشارے موسمیاتی بحران کی شدت کے بارے میں خدشات کو بڑھا رہے ہیں ۔درجہ حرارت میں اضافہ حیران کن نہیں کیونکہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔گیون شمٹ کا کہنا ہے کہ زمین نے حا ل ہی میں گرم ترین جون کو بھگتا ہے جس سے 2024کے مجموعی طور پر گرم ترین سال بننے کے امکانات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں ۔ماہر موسمیات گیون شمٹ نے موسم کے انتہائی حد تک چھونے کے بارے میں جو خدشات ظاہر کئے ہیں وہ پریشان کن اور تشویشناک ہیں جن پر حکومتوں کو غور کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب کچھ یورپ یا دوسرے مغربی یا بڑے ملکوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس قسم کی صورتحال مغرب ومشرق شمال و جنوب ہر ملک میں پائی جاتی ہے ۔دنیا بھر کے ممالک اس وقت موسم کے انتہاءپن کو برداشت کررہے ہیں اور ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال میں فوری تبدیلی نہیں آے گی تو بنی نوع انسان بوند بوند کے لئے ترسے گا۔کیونکہ شدت کی گرمی کی وجہ سے ایسے دیو ہیکل یعنی بڑے بڑے گلئیشیر پگھلنے لگے ہیں جن کے پگھلنے کا پہلے تصورتک نہیں کیا جاسکتا تھا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہمالیائی خطے سب سے زیادہ متاثر ہونگے کیونکہ کلئیشروں کے پگھلنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جس سے سمندروں اور دریاوں میں اتنی باڑھ آسکتی ہے کہ شہروں کے شہر ڈوب جائینگے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کے انتہا درجے تک پہنچنے سے صرف پانی کی قلت ہی پیدا نہیں ہوسکتی بلکہ نئی نئی اور ایسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جن کے بارے میں کسی نے سنا نہیں ہوگا اور ڈاکٹر بھی ان بیماریوں اور ان میں مبتلا افراد کو دیکھ کر سکتے میں آسکتے ہیں ۔اب دنیا بھر کے ممالک کو اس بارے میں سوچنا چاہئے کہ کس طرح بنی نوع انسان کو بچایا جاسکتاہے ۔گزشتہ برس تبدیلی موسم کے حوالے سے جو بڑے ملکوں کی کانفرنس منعقد ہوئی اس میں اس قدر اختلافات پیدا ہوگئے کہ کئی ملکوں کے نمایندے بیچ اجلاس میںہی بطور احتجاج ایوان سے اٹھ کر چلے گئے ۔اب اس کا علاج تلاش کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ ایسی کون سی حکمت عملی اپنائی جانی چاہئے جس سے لوگوں کو موسم کے حوالے سے کسی حد تک راحت مل سکے اور یہ جو تباہی ہمارے سروں پر منڈ لارہی ہے اسے کس طرح ٹالا جاسکے ۔جہاں تک وادی کا تعلق ہے تو جب یہاں 32یا 33ڈگری تک درجہ حرارت بڑھ جاتا تھا تو اسی وقت اتنی بارشیں ہوتی تھیں کہ درجہ حرارت کم ہوجاتا تھا اور لوگوں کو راحت محسوس ہوتی تھی لیکن یہاں درجہ حرارت 35ڈگری سے بھی زیادہ بڑھنے لگا پھر بھی بارشوں کا نام و نشان نہیں ۔موسم اس قدر قہر انگیز ہوگیا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں سے یہاں بارشیں ہی نہیں ہوئیں ہیں ۔اس کا اثر زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں طور پر نظر آرہا ہے ۔









