وادی میں زرعی سیکٹر پر سب سے بڑی آفت آنے والی ہے ۔اگرچہ حکومت اس سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے لیکن کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے کچھ ایسا گھناونا کھیل کھیل رہے ہیں کہ یہ سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔اس بارے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق وادی کے بعض مخصوص علاقوں میں جہلم اور سندھ سے غیر قانونی طور ریت نکالنے والے انتہائی سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ اس غیر قانونی دھندے کو آرام سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔اگرچہ پولیس کی طرف سے اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ سینڈ مافیا کے خلاف سرگرم عمل ہے لیکن اس کے باوجود جہلم کے بیشتر حصوں میں سینڈ مافیا کی سرگرمیاں جاری ہیں نتیجے کے طور پر جہلم میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے ہیں جس سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں اس کے علاوہ اس کے کنارے دھنسنے لگے ہیں جس سے اس کے بنڈ وں کے گرنے اور آس پاس کے مکانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔پولیس کی طرف سے روز اس بات کا دعویٰ کیاجارہا ہے کہ غیر قانونی طور پر جہلم سے ریت نکالنے والے نہ صرف پکڑے جارہے ہیں بلکہ جن ٹیپروں کے ذریعے ریت کو مختلف مقامات پر لے جایا جاتا ہے ان کو بھی پکڑا گیا ہے لیکن اس کے باوجود سینڈ مافیا سرگرم ہے ۔جنوبی اور شمالی کشمیر کے علاوہ گاندربل کنگن میں دریائے سندھ کی حالت اور ہیت ہی بگاڑ کر رکھ دی گئی ہے ۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہ غیر قانونی کام دن دھاڑے ہورہا ہے لیکن اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے نتیجے کے طور پر صورتحال اب اس حدتک بگڑ گئی ہے کہ صرف ایک ضلع پلوامہ میں کروڑوں روپے مالیت کی آبپاشی سکیموں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور عنقریب ایسا بھی وقت آنے والا ہے کہ سینکڑوں کنال زرعی زمین بنجر میں تبدیل ہوگی اور ہم سب دیکھتے رہ جاینگے ۔ایک معاصر روز نامے میں اس حوالے سے ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ پلوامہ ضلع کے لارکی پورہ ،پدگام پورہ اور آس پاس کے دیہات میں سینکڑوں کنال زرعی زمین کو سینچائی کرنے والی سکیم ناکارہ ہوگئی ہے اور یہ ساری زرعی زمین بنجر بنتی جارہی ہے ۔اس دوران پانپور میں غیر قانونی طور پر ریت نکالنے والے سینڈ مافیا کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاج کیا ہے اور کہا کہ ضلع پلومہ میں جہلم سے ریت نکالنے سے لارکی پورہ ،پدگام پورہ ،پتل باغ پانپور ،لیلہار ،قوئیل ،کاکہ پورہ اور آس پاس کے دیہات میں کروڑوں روپے مالیت کی آبپاشی سکیمیں ناکارہ ہورہی ہیں ۔پتل باغ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں ایک سرکاری محکمے کے بعض ملازمین بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں جنہوں نے کشتیاں خرید کر غیر مقامی مزدوروں کے ذریعے ریت نکالنے کا دھندا شروع کرکے جہلم کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔لوگوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر پلوامہ کے نوٹس میں بھی یہ معاملہ لایا ہے جنہوں نے پولیس کو اس بارے میں فوری کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سینڈ مافیا نہ صرف سرگرم ہے بلکہ اپنا غیر قانونی دھندا جاری رکھے ہوئے ہے ۔اب آہستہ آہستہ جہلم اور سندھ کی ہیت بدلتی جارہی ہے لیکن سینڈ مافیا کے خلاف قابل ذکر کاروائی کرنے میں کسی قسم کی سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سینڈ مافیا کو اپنا یہ دھندا جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف دھان اور دوسری فصلیں متاثر ہوجائینگی بلکہ جہلم کی صورت اور ہیت بھی تبدیل ہوجاے گی جس کے اثرات سے آبی حیات کا مستقبل بھی اثر انداز ہوسکتاہے ۔












