سعودی عرب میں جو افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے اس میں اب تک جو اعداد وشمار موصول ہوئے ہیں ان کے مطابق ساڑھے چھ سو سے زیادہ حجاج کرام کی موت واقع ہوئی ہے جن میں سے زیادہ تعداد مصری حاجیوں کی بتائی گئی جبکہ ایران ،انڈونیشیا ،سسنیگال ،تیونس اور عراق کے کئی حاجی صاحبان بھی جان بحق ہوئے ہیں ۔بھارت سے تعلق رکھنے والے بھی 68حاجی صاحبان کے جاں بحق ہونے کی سعودی سرکار نے تصدیق کی ہے ۔ان کے بارے میں بتایا گیا کہ شدت کی گرمی ،حاجیوں کا رش ،بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ کچھ موسمی حالات کی وجہ سے بھی از جان ہوئے ہیں ۔سعودی عرب میں سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی کہ از جان ہونے والے حاجیوں میں 323مصری حاجی شامل ہیں ۔کل شام تک مکہ مکرمہ میں جاں بحق ہونے والے حاجی صاحبان کی تعداد ساڑھے چھ سو سے زیادہ بتائی گئی ۔کہا جارہا ہے کہ لو لگنے سے دو ہزار سات سو حاجی صاحباں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور ان میں سے بھی بہت سے فوت ہوئے ہیں ۔سعودی حکومت کے ترجمان برائے امور حج نے میڈیا کو بتایا کہ بعض ہندوستانی لاپتہ بھی ہیں ۔ترجمان نے بتایا کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرکے ان کی شناخت ظاہر کی جاے لیکن حاجی صاحبان کی اتنی بڑی تعداد اور اوپر سے انتہائی موسمی حالات کی وجہ سے لاپتہ حاجی صاحبان کا سراغ لگانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ مختلف مقامات پر پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے بھی اعلان پر اعلان کیا جارہا ہے اور کوشش یہی کی جارہی ہے کہ لاپتہ افراد یا زخمیوںیا فوت شدہ افراد کا جلد از جلد سراغ لگاکر ان کی شناخت کے سلسلے میں اقدامات کئے جاسکیں ۔مکہ مکرمہ سے ایک حاجی صاحب نے بتایا کہ حکومت سعودی عرب کے سرکاری افسراں اور ملازمیں کے علاوہ رضاکار بھی انتہائی سرگرمی سے لاپتہ افراد کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اور انتہائی موسمی حالات سے متاثرہ افراد کو نزدیکی اور ایمر جنسی ہسپتالوں تک پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں البتہ گرمی کا قہر اور حاجی صاحباں کی تعداد کو مد نظر رکھ کر ہر طرح کی کوششیں رائیگاں جارہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق سوموار کو مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت تقریباً52ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔اس حاجی صاحب نے بتایا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ سورج آگ برسا رہا تھا اور ان حالات میں بھی سعودی حکومت کے اہلکار اور افسراں دن رات کام کرتے رہے اور رضاکار حاجی صاحبان کو زیادہ سے زیادہ راحت دلانے کے لئے کوششوں میں مصروف رہے ۔جن کشمیری حاجیوں کے از جان ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ان میں کئی خواتین اور ایک جوڑا بھی شامل بتایا گیا ۔اس بارے میں حج کمیٹی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔اس سال نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر میں گرمیوں کا سیزن کچھ زیادہ ہی قہر انگیز رہا اور سعودی عرب میں اسلئے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں کیونکہ اس مقدس سرزمین پر لاکھوں لوگ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہیٹ سٹروک ،اور دوسری بیماریوں کے علاوہ کئی مقامات پر بھگدڈ کی وجہ سے بھی اموات واقع ہوئی ہیں بہر حال مقامی حج کمیٹی کو فوری طور ان حاجیوں جن میں خواتین بھی شامل بتائی گئیں کے بارے میں اطلاعات ان کے لواحقین کے ساتھ شئیر کرنی چاہئے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں ۔












