اس سال امرناتھ یاترا 29جون سے شروع ہورہی ہے اور تقریباً دومہینے تک جاری رہے گی ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی یہاں عقیدت مندوں کی بھاری تعداد کی آمد متوقع ہے ۔سرکاری طور پر یاتریوں کو ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ۔اس دوران مرکزی سڑک اور ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڑ کری نے گذشتہ دنوں ایک اعلی سطحی اجلاس میں امرناتھ ٹریک اور سرینگر جموں شہراہ کے منصوبوں پر ماہرین ،افسروں اور انجنئیروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔میٹنگ میں پہلگام بیس کیمپ سے امرناتھ گھپا تک قومی شاہراہ کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور لایا گیا ۔اسی طرح بال تل بیس کیمپ سے بھی امرناتھ گھپا تک قومی شاہراہ کی تعمیرکے منصوبے کو زیر بحث لایا گیا اور اس کے لئے ماہرین اور انجنئیروں کو خصوصی کام سونپا گیا تاکہ وہ جلد از جلد اس بار ے مین اپنی ماہرانہ رائے پیش کرسکیں ۔جہاں تک امرناتھ یاترا کا تعلق ہے تو ہر سال امرناتھ جانے والے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اسلئے کئی ایسے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھانے لازمی ہیں جو اب تک نہیں اٹھائے گئے تھے اور ان میں ہائی وے کی تعمیر ایک ہے ۔اگرچہ ابھی کے ابھی قومی شاہراہ تعمیر نہیں ہوسکتی فی الحال ہنگامی بنیادوں پر سڑک کو وسعت دی گئی ہے اور اب وہاں تک عقیدت مندوں کو سفر کے حوالے سے زیادہ تکلیف نہیں پہنچ سکتی ہے ۔اس دوران پہلگام بیس کیمپ اور بال تل بیس کیمپ سے ٹریک کی صفائی ستھرائی کا کام شروع کیا گیا ہے اور کئی سو صفائی کرمچاری کام پر لگادئے گئے ہیں ۔اس سے ظاہر ہے کہ یاتریوں کو گھپا تک جانے کے لئے صاف ستھرا ماحول ملے گا لیکن یاتریوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ حکومت کے ان اقدامات کے ساتھ تعاون کریں جو وہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے اٹھارہی ہے ۔سب سے پہلے یاتریوں کو مختصر مگر گرم کپڑے بھی ساتھ لینے چاہئے اور کوئی ایسا کام نہیں کرانا چاہئے جس سے ماحول آلودہ ہوجاے گا۔گذشتہ برسوں جب بھی یاترا اختتام پذیر ہوتی تھی تو پھر صفائی کرمچاریوں کو تقریباً دس پندرہ دن دونوں اطراف یعنی پہلگام اور بال تل سونہ مرگ سے گھپا ٹریک کے دونوں طرف چپس کے خالی پیکٹ ،بسکٹ ریپر،اور سگریٹ اور بی ڈی کے بٹس وغیرہ اکٹھے کرکے ان کو ٹھکانے لگانے میں لگ جاتے تھے ۔اسلئے اب کی بار یاتریوں کو بھی ماحول صاف ستھرا رکھنے میں سرکار کی مدد کرنی چاہئے ۔ادھر وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے سرینگر جموں نیشنل ہائے وے کے ایک اور منصوبے سے بھی میٹنگ کو آگاہ کیا ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت مرکزی وزارٹ ٹرانسپورٹ کے تقریبا ایک لاکھ کروڑ کے سڑک پروجیکٹ یہاں زیر تکمیل ہیں ۔عام لوگوں کا کہنا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کی کشادگی اور اسے خوبصورت بنانے میں مرکزی حکومت نے عمدہ کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود رام بن رام سو ٹریک اب بھی حادثات اور پسیاں گرنے کے حوالے سے انتہائی خطرناک ٹریک بنا ہوا ہے اور روز اس ٹریک پر حادثات رونما ہوتے ہیں ۔اسلئے وزارت ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر اس جانب اقدامات اٹھانے چاہئے اور اس سڑک کومسافروں کے لئے محفوظ بنانے کے لئے ٹھوس کاروائی کی جانی چاہئے ۔اس کے ساتھ بانہال میں سڑک کی کشادگی کا کام بھی فوری طور ہاتھ میں لیا جانا چاہئے کیونکہ بانہال میں اکثر و بیشتر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے ۔اس سڑک پر سفر کرنے والوں کو اس حوالے سے جو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے سے ان کو فوری فوری طور چھٹکارا دلانا چاہئے ۔











