لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے پر زور دیا کہ وہ مریضوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرکے انہیں بھرپور طبی امداد فراہم کریں اور طبی ادارے میں درکا رلازمی ساز و سامان کی فراہمی کی ذمہ داری سرکار پر چھوڑ دیں ۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی نئی تشکیل دی گئی گورننگ باڈی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ ہم صحت عامہ تک سستی رسائی اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کیلئے پُر عزم ہیں ۔میٹنگ میں موجود اس معروف طبی ادارے کے ذمہ داروں نے لیفٹننٹ گورنر کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو وہاں داخل ہونے والے مریضوں یا آوٹ ڈور پیشنٹس کے لئے اٹھائے جارہے ہیں تاکہ انہیں بھر پور طبی امداد فراہم کی جا سکے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ شمالی ہندوستان کے ان گنے چنے طبی اداروں میں سے ایک ہے جو اپنی اہمیت اور افادیت کے لئے کافی مشہور ہے اور جہاں سپیشلٹ ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ باصلاحیت نیم طبی عملہ موجود ہے جو اپنے فرایض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں برت رہا ہے ۔اس ادارے کی اہمیت اور وہاں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا چرچا اس قدر عام ہے کہ صوبہ جموں سے بھی مریض یہاں آکر اپنا علاج کرواتے ہیں ۔لیکن اس معروف طبی ادارے میں بعض ایسے ڈاکٹر یا دوسرے ملازمین تعینات ہیں جن کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ اپنے فرایض کے تئیں اس قدر سنجیدہ نہیں جتناانہیں ہونا چاہئے تھاایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ادارے کی بدنامی ہوتی ہے چونکہ اس ادارے سے صحت کے معاملات جڑے ہیں جن کو مد نظر رکھ کرڈاکٹروں یا نیم طبی عملے کی جانب سے کسی غفلت شعاری کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔بہر حال اگر دیکھا جاے تو اس ادارے میں کم و بیش تمام ڈاکٹر اور دوسرے ملازمین اپنے فرایض کی ادائیگی کے تئیں بہت زیادہ محتاط ہیں اور مریضوں کا علاج کرنے میں کسی قسم کی غفلت شعاری کے مرتکب نہیں ہورہے ہیں لیکن اس ادارے کے بارے میں عام شکایت یہی ہے کہ جس دن جس کسی بڑے ڈاکٹر کا آوٹ ڈور ہوتا ہے اسی دن وہ دیر سے آتاہے ۔جس کے نتیجے میں مریضوں کو بہت زیادہ مشکلات پیش آرہی ہیں ۔اس طرح کا طرز عمل ناقابل قبول ہے اور لیفٹنٹ گورنر نے بھی اس کی طرف میٹنگ میں اس ادارے کے ذمہ داروں کی توجہ مبذول کرواتے ہوے کہا کہ اس طرح کا طرز عمل کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتاہے ۔بہر حال یہاں جو بھی طبی ادارے ہیں ان میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔سپیشلٹ ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ لازمی ساز و سامان اور مشینری کی تنصیب یقینی بنائی جانی چاہئے کیونکہ پرائیویٹ طبی اداروں میں علاج کروانا متوسط طبقے کے لئے ناممکن بنتا جارہا ہے کیونکہ پرائیویٹ طبی اداروں میں ایک مریض کو اس قدر روپے پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں جس سے وہ انتہائی مشکلات میں پڑ جاتا ہے ۔اسلئے سرکاری طبی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کو ہی مضبوط اور چست درست بنانے کی ضرورت ہے ۔









