آبادی میں اضافے کے نتیجے میں کئی ایسے مسایل اور مشکلات جنم لیتے ہیںجن پر اگر فوری طور قابو نہیں پایا جاے گا تو وہ آگے چل ایک بہت بڑی مشکل پیدا کرسکتے ہیں ۔آبادی بڑھنے سے جہاں ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جارہی ہے وہیں دوسری طرف شہر و گام کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور اگر اس کوڑے کرکٹ کو جدید اور سائینسی طریقے پر ٹھکانے نہیں لگایا جاے گا تو ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاینگی جن پر قابو پانا بعد میں مشکل ہوجاے گا۔یہاں اپنے قارئین کی توجہ شہر سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کی طرف مبذول کروائی جارہی ہے ۔شہر سے جتنا بھی کوڑا کرکٹ نکلتا ہے وہ اچھی طرح جمع کرکے گاڑیوں میں بھر بھر کر سعد پورہ اچھن کے ڈمپنگ گراونڈ پہنچایا جاتا ہے جہاں چشم دید گواہوں کے مطابق وہاں کوڑے کرکٹ کے پہاڑ کھڑے ہوگئے ہیں اور ان سے جو بد بو پھیلتی ہے اس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔اس میں کسی کا کوئی قصور بھی نہیں ۔اگر میونسپلٹی کی طرف سے اچھن کے ڈمپنگ گراونڈ میں کوڑا کرکٹ نہیں پہنچایا جاے گا تو پھر اسے کہاں رکھا جاے گا ؟یہ سب سے بڑا سوال ہے جس کا جواب ظاہر ہے کہ متعلقہ حکام کے پاس ہی ہوگا۔اس بارے میں نیشنل گرین ٹریبونل نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ آٹھ ہفتوں یعنی دو ماہ تک شہر سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو جدید سائینسی طریقوں پر ٹھکانے لگانے کے بارے میں ادارے کو آگاہ کرے ۔ایک مقامی خبر رساں ایجنسی APIنے ایک خبر شایع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ سال 2016میں میونسپل کار پوریشن سرینگر نے کوڑے کرکٹ کو جدید سائینسی طریقے پر ٹھکانے لگانے کیلئے طرز عمل اپنانے کا اعلان کیا تھالیکن تقریباً آٹھ سال کا عرصہ گذرچکا ہے کارپوریشن کی طرف سے ایسی کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی ۔جس پر ٹریبونل نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور شہر سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو جدید سائینسی طریقے پر ٹھکانے لگانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جو میونسپل کارپوریشن سے رابطہ قایم کرکے آٹھ ہفتے بعد گرین ٹریبونل کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اس خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ سرکار نے اُ س وقت اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس پر بہت کم رقم خرچ ہو گاتاہم ایک دہائی گذر جانے کے باوجود پانچ میگا واٹ بجلی پیدا نہیں کی جاسکی ہے ۔جو حیران کُن ہے ۔ٹریبونل نے شنوائی کے دوران سعدہ پورہ اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی طرف سے پیش کی گئی شکایات کا سنجیدہ نوٹس لیا آج کل گرمیوں کے ان ایام میں اس ڈمپنگ گراونڈ سے بڑے پیمانے پر عفونت پھیلنے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اگرچہ میونسپلٹی کی طرف سے بار بار اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کوڑے کوکٹ کو جدید سانئیسی طریقے پر ٹھکانے لگایا جاے گا لیکن اب تک اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔دریں اثنا ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے اچھن سعدپور ڈمپنگ گراونڈ بتدریج سکڑتا جارہا ہے ۔اور اب اس میں مزید کوڑا کرکٹ ڈالنے کی گنجایش باقی نہیں رہی ہے ۔اسلئے سرکار کو جلد از جلد ڈمپنگ گراونڈ کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آسکے اس کے ساتھ ہی صورہ میڈیکل انسٹیچیوٹ کو بھی بدبو اور اس سے نکلنے والی عفونت سے بچایا جاسکے ۔اگر اس کو ایسے ہی رہنے دیا جاے گا تو ہسپتال میں بیماروں کی حالت میں سدھا ر آنے کے بجائے ان کی حالت بگڑ سکتی ہے ۔












