اس سے قبل ان ہی کالموں میں حکام کی توجہ سرینگر جموں شاہراہ کی بگڑتی ہوئی حالت کی طرف مبذول کروائی گئی کہ اب یہ شاہراہ آہستہ آہستہ ناقابل آمدو رفت بنتی جارہی ہے کیونکہ بانہال اور رام بن کا جو ٹریک ہے وہ انتہائی خطرناک رخ اختیار کررہا ہے اور اس جگہ اب تک بے شمار حادثات رونما ہوچکے ہیں ہزاروں جانیں تلف ہوچکی ہیں ۔اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس سڑک کی عمر کافی ہوچکی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اب حد سے زیادہ ٹریفک بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں ہر گذرنے والے دن اس سڑک پر ٹریفک کا بوجھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے ۔غالباً یہی وجہ ہے کہ بانہال سے رام بن تک سڑک کی حالت بہتر نہیں بنائی جاسکی ہے ۔اس ٹریک پر آے دن پسیاں گرنے اور زمین کھسکنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی کشادگی کے لئے جو بارودی مواد استمال کیا جاتا ہے اس کے پھٹنے سے نزدیکی پہاڑیوں میں ہلچل پیدا ہوتی ہے اور نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ معمولی بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں پسیاں گرنے لگتی ہیںسڑک کھسکنے لگتی ہے اجس سے ایک تو حادثات رونما ہوتے رہتے ہیںاور دوسری بات یہ ہے کہ انسانی جانوں کا زیاں ہوجاتاہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے یہ سڑک بند ہے اور ٹریفک کی آمد و رفت روک دی گئی ہے البتہ کل اسے جزوی طوربحال کردیاگیا ۔ولواس کے مقام پر ڈرائیوروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سنگل لین کا استعمال کریں اور اوور ٹیکنگ کا سوال ہی پیدانہیں ہوتاہے اگر یوں دیکھاجائے تو اتوار سے شاہراہ بند پڑی ہے ادھر ماہ رمضان آگیا ہے اس مہینے گھروں میں مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اسلئے شاہراہ کو آمد و رفت کے قابل بنانے کے لئے متعلقہ عملہ اگرچہ دن رات کام میں مشغول رہتاہے لیکن ابھی سڑک صاف کی گئی تو دوسرے ہی لمحہ پھر سے پسیاں گرنے کا عمل شروع ہوتاہے ۔ان حالات میں سرینگر اور جموں کے درمیان ریل سروس ترجیحی بنیادوں پر شروع کی جانی چاہئے ۔پہلے یہ کہا گیا کہ مارچ میں ریل سروس شروع کی جاے گی لیکن اب کہا جارہا ہے کہ جون میں ریل سروس شروع ہوگی ۔ریل سروس سے سرینگر جموں شاہراہ پر دباﺅ کم ہوسکتاہے اور اس کی مرمت و تجدید اطمینان بخش طریقے سے جاری رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی بھی سرینگر اور جموں کے درمیان ریل سروس شروع کرنے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ناردرن ریلویز کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اور ترجیحی بنیادوں پر کام جاری رکھے ۔گذشتہ دنوں ریلوے لائین کو بانہال سے 48کلومیٹر دور تک توسیع دی گئی ۔سُنا جارہاہے کہ ریلوے لائین پر کام کی رفتار کچھ سست رفتاری سے جاری ہے اس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ جون سے پہلے ہی سرینگر اور جموں کے درمیان ریل سروس بحال کی جاسکے ۔ایک بار یہ سروس بحال ہوگی تو یہاں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ جاینگی۔سیاحت کو فروغ مل سکتاہے ۔










