عالمی سطح پر یوم خواتین منانے کا مقصد و مدعا کیا ہے اس بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکیتں کہ اس کا مطلب خواتین کو ان کے حقوق دئے جائیں انہیں وہ عزت و اکرام دیا جاے جس کی وہ مستحق ہیں اور ان سے کوئی بھید بھاﺅ نہ کیا جاے ۔ان کو گھرکی لونڈی تصور نہ کیا جاے بلکہ یہ وہ ہستی ہے جس سے کائینات میں رنگ چھلکتاہے اور اگر عورت نہ ہوتی تو پوری دنیا بے رنگ و بو ہوتی ۔مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ خواتین کا عالمی دن منانا محض رسم بن گیا ہے اور اس رسم کو نبھانے کیلئے ہر کوئی ایٹری چوٹی کا زور لگا رہا ہے ۔اتنے سالوں سے ہم یوم خواتین مناتے آئے ہیں لیکن عورتوں کے ساتھ سلوک ،ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا سب کچھ بے بنیاد سالگتا ہے کیونکہ آج کے اس ماڈرن دور میں عورتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جیسا آج سے دہائیوں پہلے کیا جاتاتھا ۔بہت سے لوگ اب بھی عورت کو ایک نوکرانی سے زیادہ کا درجہ دینے کے حق میں نہیں اور اس طرح ان کے حقوق کی ادائیگی کا ایسے لوگوں کے سامنے سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے ۔بعض لوگ عورت کو محض ایک خوبصورتی کا پیکر قرار دے کر اس سے زیادہ ان کو کوئی بھی درجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں صرف بچے کھچے لوگ ہی ایسے ہیں اور وہ لوگ جن کو خدا کا خوف ہے عورت کو اس کا وہ درجہ دیتے ہیں جس کی وہ مستحق ہوتی ہے اور جس کا اسے حق حاصل ہے ۔عورت کوئی کھلونا نہیں جسے چاہا انگلیوں پر نچا کے رکھ دیا جاے گا۔سوشل میڈیا میں خواتین کو ان کا وہ درجہ ،رتبہ اور عزت و احترام نہیں دیا جارہا ہے جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔عورتوں کو زرق برق لباس پہناکر ان کو نچانا ان کی بے عزتی کے مترادف ہے ۔جب نوجوان سوشل میڈیا پر عورتوں کا یہ حال دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایک خاتون کا کون ساروپ سامنے آسکتاہے یہ ہر کوئی سوچ سکتاہے ۔ٹیلی ویثرن ڈراموں اور فلموں میں تو عورتوں کو جس انداز سے پیش کیا جارہا ہے وہ ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ۔بلکہ سوشل میڈیا اور فلموں اور ٹیلی ویثرن پر عورتوں کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت دکھانے کے لئے اس کو نہ صرف کم سے کم کپڑے پہنائے جاتے ہیں بلکہ اسے گلیمرس دکھانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جاتاہے ۔یہ سوچے بغیر کہ اس سے ہماری نوجوان نسل پر کیا اثر پڑ سکتاہے عورت کو زیادہ سے زیادہ EXPOSEکرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہیں ہونا چاہئے ۔ہمارے گھروں میں ہر کوئی ٹیلی ویثرن ذوق و شوق سے دیکھتاہے اور جب عورت کو اس حال میں دیکھا جاتا ہے تو سر خوبخود شرم سے جھک جاتاہے ۔غرض جب تک ہم خو د عورت کو عزت کی نگاہوں سے نہیں دیکھینگے اور اس کو اصل مقام عطا نہیں کرینگے وومنز ڈے منانے کا کوئی فایدہ نہیں ۔یہ سب محض ایک رسم ہے اور وومنز ڈے مناکر اس رسم کو ادا کیا جاتاہے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ یعنی عورت کے دم سے ہی یہ دنیا آباد ہے یہ ان عورتوں کے لئے کہا گیا کہ جن کو دیکھ کر ان کے تئیں خود بخود عزت و احترام کے جذبے پیدا ہوتے ہیں یہ ان عورتوں کے لئے نہیں کہا گیا ہے جو محض براے نام کپڑے پہن کر اپنے جسم کی نمایش کرکے خود کو سماج میں عزت دار بننے کے خواب دیکھتی ہیں۔











