سرمائی ایام شروع ہوتے ہی وادی میں آگ کی وارداتیں شروع ہوجاتی ہیں جس سے یہاں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات بھی ہوتے ہیں جو باعث تشویش ہے ۔گذشتہ دنوں عمر کالونی لال بازار میں گیس سلنڈر کی وجہ سے ایک قیمتی جان گئی جبکہ اس حادثے میں چار پانچ افراد جھلس گئے ۔اس واقعے پر ہر ایک نے افسوس کا اظہار کیا ۔اگر موقعے پر اور جلد ہی فائیربریگیڈ نہیں پہنچ پاتا تو کئی مکانات بھی آگ کی زد میں آکر خاکستر ہوچکے ہوتے ۔اس کے فوراً بعد بہوری کدل میں بھی اچانک آگ سے ایک شاپنگ کمپلیکس اور تاریخی بازار مسجد شریف کو نقصان پہنچاہے ۔سرما میں بجلی کی مانگ بہت بڑھ جاتی ہے اور اسی حساب سے آگ کی وارداتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ فائیر سروس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جوں ہی سردیوں کے ایام شروع ہوجاتے ہیں آگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں اور سب سے بڑی وجہ بے احتیاطی ہے ۔یعنی جو لوگ ہر معاملے میں احتیاط برتتے ہیں وہ کبھی نقصان سے دوچار نہیں ہوتے ہیں ۔آج کل بازاروں میں جو گرمی دینے والے آلات موجود ہیں ان میں سے بعض آلات غیر معیاری ثابت ہوتے ہیں ۔لوگ ان سستے آلات کو خرید کر ان کو استعمال کرتے ہیں یہ زیادہ دیر پا ثابت نہیں ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے آگ نمودار ہوسکتی ہے ۔یا خاص طور پر پرانے مکانوں میں جو وائیرنگ ہوتی ہے وہ مختلف جگہوں پر ٹوٹی پھوٹی ہوتی ہے ان تاروں کو لوگ گانٹھیں لگا لگا کر استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ بھی شارٹ سرکٹ کی ایک وجہ ہوتی ہے یا گھروں میں جو سویچ یا دوسری چیزیں استعمال کی جاتی ہیں اگر وہ غیر معیاری ہونگی تو ان سے بھی شارٹ سرکٹ کا خطرہ بڑھتارہتاہے ۔گذشتہ دنوں نوگام میں ایک شخص کی رات کے دوران دم گھٹنے سے موت ہوئی ہے ۔اس طرح کی بہت سی وارداتیں اس سے پہلے بھی رونما ہوچکی ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ رات کے وقت گیس ہیٹر یا انگیٹھی وغیرہ جلا کر رکھ دیتے ہیں یا بخاری اسی طرح کھلی رکھ دیتے ہیں چونکہ سردیوں میں کھڑکیاں اور دروازے بند ہوتے ہیں کمرے میں گیس بھر جاتی ہے اور اس طرح زیادہ مقدار میں کاربن ڈایکسائیڈ کی وجہ سے اموات ہوتی ہیں ۔گیس لیک کی صورت میں بجلی آن ہونے یا ماچس کی تیلی یا لائیٹر جلانے سے یکدم آگ لگ جاتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن بن جاتاہے ۔کبھی کبھار بستروں میں کانگڑیاں بھی آگ کا باعث بن جاتی ہیں یا اس سے آدمی جھلس کر موت کے منہ میں چلاجاتاہے ۔غرض سردیوں میں آگ لگنے کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں اسلئے ہر شہری کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ پرانی کہاوت ہے ”نار چھو مار“اسلئے آگ سے بچنے کے لئے ہر شہری پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے ۔گزشتہ مہینے میں پانچ ہاوس بوٹ آگ کی واردات میں خاکستر ہوگئے ہیں جن کے ساتھ کئی رہایشی ڈھانچے بھی جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔آگ کی اس واردات میں تین سیاح بھی زندہ جل کر موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور کئی ایک جھلس کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں ۔اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ آگ سے بچاﺅ کے لئے ہر ممکن سطح پر احتیاط سے کام لیں۔ہرگز غیر معیاری گرمی پہنچانے والے آلات استعمال نہ کریں ۔گھروں ،دکانوں ،کارخانوں اور فیکٹریوں میں فٹنگ وغیرہ کے لئے ہر چیز معیاری خرید کر ان کو استعمال کیا جاے ۔جبکہ محکمہ فائیر سروس پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ فائیر سیفٹی آڈٹ کا سلسلہ جاری رکھیں ۔










