جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں آیا ہے کہ چین میں ایک ایسی پراسرار بیماری پھیل رہی ہے جس میں زیادہ تر بچے مبتلا ہورہے ہیں جبکہ اب یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ اس بیماری میں دوسرے لوگ بھی آرہے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جن کا بچوں کے ساتھ رابطہ رہتاہے جن میں والدین کے علاوہ بہن بھائی اور ٹیچرز شامل ہیں ۔اطلاعات کے مطابق چین کے مختلف صوبوں میں بچے ایک خاص قسم کے نمونیہ میں مبتلا ہورہے ہیں اور اب ان سکولوں کے ٹیچرز بھی نمونیہ کے شکار ہوگئے ہیں ۔بیجنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہسپتال اس مرض میں مبتلا بچوں اور ٹیچرز سے بھرگئے ہیں اور اب دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اس بیماری میں مبتلا ہوکر ہسپتالوں میں پڑ ے ہیں ان ہسپتالوں میں ایمر جنسی کا اعلان کیا گیا ہے سرکاری طور پر ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ۔اور اب متاثرین کے علاج معالجے کے لئے متبادل انتظامات کئے جارہے ہیں۔یعنی کرایہ پر مکان لے کر ان میں ایمر جنسی وارڈ قایم کئے جارہے ہیں تاکہ اس عجیب نوعیت کی بیماری میں مبتلا لوگوں کا علاج کیا جاسکے ۔اس بیماری کا ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن نے سخت نوٹس لے کر حکومت چین سے کہا ہے کہ وہ اس بیماری کے بارے میں تفصیلی رپورٹ عالمی ادارہ صحت کو بھیج دے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اس کی نوعیت کیسی ہے اور یہ کس طرح انسانوں کو لگ جاتی ہے اور اس کی علامات کیسی ہیں؟بیجنگ میں ماہرین طب اور سائینسدانوں نے اس کی تحقیق شرو ع کردی ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ کس طرح پھیل گئی ہے ۔عین مشاہدین کا کہنا ہے کہ اس وقت چین میں ویسی ہی صورتحال پائی جاتی ہے جیسی کووڈ 19کے وقت پائی جارہی تھی ۔لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ماسکوں کا استعمال کریں اور ان لوگوں سے دوری بنائے رکھیں جو اس بیماری میں مبتلا ہونگے ۔دریں اثنا یہاں بھی طبی ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس وقت کسی بھی طرح کی بے احتیاطی کا مظاہرہ نہ کریں کیونکہ ہوسکتاہے کہ یہ بیماری یہاں بھی پہنچ سکے ۔کیونکہ جو علاقے سیاحت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ان علاقوں میں لاگ دار بیماریاں دوسرے علاقوں کے مقابلے میں جلدی پھیل جاتی ہیں اور چونکہ وادی کشمیر سیاحت کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے یہاں دنیا بھر سے لوگ سیر کرنے کے لئے آتے ہیں ۔اس طرح یہاں بھی اس بیماری کے پھیلنے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں بھی اگر لوگ سرمائی ایام میں لگنے والی بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو گھروں سے نکلتے وقت ماسک پہنا کریں اور اپنے ہاتھوں کو خاص طور پر صابن وغیرہ سے دھوئیں اور کسی بھی حالت میں ان لوگوں سے دور رہیں جو کسی بھی لاگ دار بیماری میں مبتلا ہونگے ۔اگرچہ چین میں پھیلنے والی بیماری یہاں نہیں ہے لیکن پھر بھی احتیاط لازمی ہے اور ویسے بھی موسم سرما میں نمونیہ وغیرہ عام ہوتاہے جس سے بچنے کے لئے زبردست احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت ہے ۔











