ڈوڈہ میں کل یعنی 15نومبر کو ایک المناک حادثہ رونما ہوا ہے جس میں اب تک 36افراد کی ہلاکت اور 19سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔زخمیوں میں سے بعض کی حالت انتہائی نازک قرار دی جارہی ہے ۔اس المناک حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی ،مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ ،لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کے علاوہ ہر چھوٹے بڑے لیڈر نے انتہائی دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے جبکہ عام لوگوں نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جاے کہ خطہ چناب میں آے روز حادثات کی کیا وجوہات ہیں ؟کیونکہ اکثر و بیشتر ہر دو تین ہفتے بعد چناب خطے میں کسی نہ کسی گاڑی کو حادثہ پیش آنے سے ہلاکتیں ہوجاتی ہیں ۔کل جو حادثہ رونما ہوا وہ اسکر کے مقام پر پیش آیا جس سے لگتا ہے کہ خطہ چناب کے راستے خونین ہوچکے ہیں ۔ان راستوں کو انسانی خون کی پیاس لگ گئی ہے تب ہی آے دن سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں اور تازہ حادثات میں اتنی ہلاکتیں ہوئیں کہ کلیجہ پھٹ جاتا ہے اور دل خون کے آنسو رونے لگتاہے ۔ایک ساتھ تین درجن سے زیادہ انسانی جانوں کا ضیاع ناقابل یقین ہے ۔اس حادثے کے بعد جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ مسافر گاڑی صبح ڈوڈہ سے روانہ ہوئی اور جب یہ گاڑی اسکر کے مقام پر پہنچ گئی تو یہ ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر گہری کھائی میں لڑھک گئی جس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔بعض مقامی لوگوں نے اس خطے میں حادثات کے بارے میں کہا کہ ڈوڈہ ،بھدرواہ ،کشتواڑ ،راجوری ،پونچھ وغیر ہ میں اکثر مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور گنجایش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرتے ہیں اور پھر تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاتے ہیں اس دوران پہاڑی راستوں پر ڈرائیور گاڑیوں پر قابو نہیں رکھ سکتے ہیں اور گاڑیاں اوور لوڈنگ کی وجہ سے لڑھک جاتی ہیں اور اس طرح انسانی جانیں ضایع ہوجاتی ہیں ۔اس پر قابو پانے کے لئے ضلع انتظامیہ نے آج تک کوئی کاروائی نہیں کی ہے ۔کل جو حادثہ رونما ہوا ہے اس کے بارے میں بھی بتایا جاتاہے کہ اس میں گنجایش سے زیادہ مسافر سوار تھے اور گاڑی اسکر کے مقام پر موڑ کاٹتے ہوے ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور نیچے گہری کھائی میں لڑھک گئی اور اتنی جانیں تلف ہوگئیں ۔سب کو معلوم ہے کہ مسافر گاڑیوں کی نہ تو فٹنس پر کوئی توجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی سڑکوں پر جگہ جگہ ٹریفک کا عملہ تعینات کیا جارہا ہے تاکہ گاڑیوں کی تیز رفتاری یا ان کی اوور لوڈنگ چیک کی جاتی ۔جب اس طرح کی صورتحال ہو تو حادثات کو کیسے روکا جاسکتا ہے ؟حکام کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ مسافر گاڑیوں کی بھر پور چکنگ ہونی چاہئے اور سڑکوں پر مختلف مقامات پر ناکے بٹھانے چاہئے تاکہ ڈرائیوروں کی تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ پر قابو پایا جاسکے ۔











