ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اپنی خصوصی رپورٹ میں پالیتھین اور پلاسٹک کے استعمال سے پیدا شدہ صورتحال پربھر پور تبصرہ کیا ہے ۔ جس میں بتایا گیا کہ جس قدر حکومت نے پالیتھین لفافوں اور پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عاید کرنے کا اعلان شد و مد سے کیا تھا اسی قدر سب سے زیادہ لوگ ان ہی دو اشیاءکا استعمال کرکے سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔ماہرین زراعت نے بار بار حکومت کی توجہ پولی تھین کے بڑھتے ہوے استعمال کی طرف مبذول کروائی اور کہا کہ پولی تھین کے استعمال سے زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور یہ سچ ثابت ہورہا ہے ۔جو زمین کل تک زرخیز قرار دی جارہی تھی آج وہ بنجر زمین میں تبدیل ہورہی ہے کیونکہ اس زمین میں ٹنوں پالی تھین دفن ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہر طرح کی فصل کے لئے یہ زمین ناقابل کاشت بن گئی ہے ۔اس زمین پر کچھ نہیں اگا یا جاسکتاہے اور اگر کبھی اس پر کوئی فصل بوئی گئی تو وہ اُگ نہیں سکتی ہے ۔اس خبر رسان ایجنسی کی طرف سے اس بارے میں جو رپورٹ شایع کی گئی اس میں کہا گیا کہ لوگ اس بارے میں کسی بھی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں ۔اس وقت اسی فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں یعنی ان پڑھ نہیں اس کے باوجود پالی تھین اور پلاسٹک کے معاملے میں وہ انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔یعنی سب سے زیادہ وہی لوگ پولیتھین کا استعمال کرتے ہیں اور ماحول کو گندہ کرنے میں ان ہی کا ہاتھ ہوتا ہے ۔اگرچہ وہ نجی محفلوں میں اس کے خلاف لمبی لمبی تقریریں جھاڑتے ہیں لیکن اس کے باوجود پالی تھین کا زیادہ استعمال وہی کرتے ہیں ۔حکومت کی طرف سے لوگوں کو بار بار ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کیلئے ندی نالوں ،دریاﺅں ،جھیلوں اور دیگر آبی پناہ گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن جب ہم ان ہی آبی پناہ گاہوں کا حال دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتاہے اور انسان کی عقل پر رونا آتا ہے کہ وہ کس طرح خود ہی اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارتا ہے ۔ندی نالوں کو بچانے کی ہم کوئی فکر نہیں کرتے بلکہ الٹا ہم ان کو گندہ کرکے اپنی اور اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کی تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔اس وقت ماحولیات کو بچانے کے لئے سرکاری طور پر بھاری رقومات مختص رکھی جارہی ہیں لیکن عوام کے تعاون کے بغیر یہ پروگرام کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں ۔اکیلے حکومت اس طرح کے عوامی بہبود کے پروگراموں کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی ہے ۔جو بھی سرکار کے فیصلے ہوتے ہیں جب تک لوگوں کا تعاون اس میں شامل نہیں ہوگا یہ فیصلے ،پروگرام ،پروجیکٹ ،منصوبے وغیرہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں ۔لیکن سرکار کرے بھی تو کیا کرے ؟جب لوگ ہی پالی تھین کا استمال ترک نہیں کرتے ہیں تو کتنوں کے خلاف کاروائی کی جاے گی۔اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا عزم کریں کہ وہ کبھی بھی پولی تھین استعمال نہیں کریں گے بلکہ اس کے متبادل جو کچھ بھی میسر ہوگا اور جس سے ماحولیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا وہی لوگ استعمال کرینگے تب کہیں جاکر ماحول میں پائی جانے والی کثافت سے نجات مل سکتی ہے









