سماگرہ شکھشا سکیم کے تحت سرکاری سکولوں میں درس و تدریس کے عمل کو اب ڈیجیٹل شکل دی جارہی ہے ۔اس بارے میں سرکاری طور پر جو اطلاعات فراہم کی گئیں ان کے مطابق حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں کے چالیس ہزار اساتذہ کو ٹیبلٹس فراہم کی جاینگی جس کی مدد سے وہ بچوں کو پڑھائینگے ۔اس کے ساتھ ہی جیسا کہ اطلاعات میں بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں اب بلیک بورڈ ختم ہوگا اور اس کے بدلے سمارٹ ڈیجیٹل بورڈ ہونگے جس پر چاک کے بجاے مصنوعی قلم سے لکھا جاے گا اور یہ انٹر نیٹ سے جڑا رہے گا۔اس طرح ٹیچنگ اور لرننگ کا عمل ایک صحت مند اور نئے زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق جاری رکھا جاے گا۔ماہرین تعلیم نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوے کہا کہ اس سے سرکاری سکولوں کے بچوں کو زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے ترغیب و تحریک ملے گی۔حکومت نے پورے ملک اور خاص طور پر جموں کشمیر میں سرکاری سکولوں کے طلبہ اور طالبات کو تعلیم کے میدان میں زمانے کے تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لیے جو سماگرا شکھشا سکیم شروع کی ہے اس کے آہستہ آہستہ سے مثبت نتایج برآمد ہونے لگے ہیں ۔اس سکیم کے تحت پرائیمری کلاسوں کے ٹیچرز کو چالیس ہزار ٹیبلٹس فراہم کئے جاینگے لیکن اس سے پہلے ان اساتذہ کو اس کی تربیت دی جاے گی۔ٹیبلٹس کی خریداری کے لئے ٹینڈر طلب کرنے کا عمل شروع کیا جارہا ہے ۔اس بارے میں سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اس کے دو فایدے ہونگے پہلا یہ کہ متعلقہ مضامین کے سرچ انجن کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرسکیں گے ۔اس کے علاوہ بچوں کو آسان طریقے سے پڑھایا جاسکے گا۔دوسرا فایدہ یہ ہوگا کہ بجلی کی خرابی کی صورت میں پڑھائی متاثر نہیں ہوگی۔ٹیبلٹ اساتذہ کو پرائیمری سطح کے بچوں کے لئے پڑھنے کا بہتر مواد تیار کرنے میں مدد دے گا۔پرایمری سطح کے سکولوں کو پنن بھارت مشن کے تحت اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے تاکہ اس کا ہدف وقت پر حاصل ہوسکے ۔سرکاری ذرایع نے بتایا کہ سرکاری سکولوں میں بچے اب بلیک بورڈ استعمال کرنے کے بجاے ڈیجیٹل طریقے سے تعلیم حاصل کرسکینگے ۔اس کے لئے محکمہ ایجوکیشن نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔پروجیکٹ ڈائیریکٹر نے کہا کہ صرف بچوں کو ہی نہیں بلکہ اساتذہ کو بھی تعلیم میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوے استعمال سے واقف ہونے کی ضرورت ہے ۔ادھر وادی میں لوگوں نے اگرچہ سرکار کے اس فیصلے کو قابل سراہنا قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس طرح کا نظام قایم کرنے سے پہلے سرکاری سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔یعنی بیشتر پرائیمری سکولوں کی عمارتیں خستہ حالت میں پڑی ہیں ان کی تجدید و مرمت کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلانے میں فخر محسوس کرسکیں ۔آج کل یہ ایک فیشن سا بن گیا ہے کہ وہ والدین بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ دلواتے ہیں جو ان سکولوں کی فیس اور دوسرے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔یہ سب اسلئے ہوتا ہے کہ سرکاری سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور سرکاری سکولوں کی حالت کو بہتر بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے ان میں تعلیم حاصل کرسکیںاور علم کے نور سے فیضیاب ہوکر کامیاب زندگی گذار سکیں۔










