وزیر داخلہ امیت شاہ کی ورچوئیل موجودگی میں 1.44لاکھ کلو گرام نشہ آور اشیاءنذر آتش کردی گئیں ۔اس مثبت اقدام کے پیچھے وزیر داخلہ کی ذاتی کوششیں کارفرما بتائی جاتی ہیں جنہوں نے ملک بھر میں نشہ آور اشیاءکا قلع قمع کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو متحرک کرکے منشیات پر قابو پانے کے لئے متحرک ہونے کی ہدایت دی تھی اور اب بھی وزیر داخلہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں لوگ حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کریں کیونکہ یہ کوئی سیاسی یا مذہبی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی مسلہ ہے آج کل ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی لت میں مبتلا ہوگئے ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا ًتیس سے پنتیس فی صد تک لڑکے لڑکیاں اس لت میں مبتلا نظر آرہے ہیں ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایک طرف لوگ منشیات کے بڑھتے ہوے استعمال پر جہاں افسوس کا اظہار کررہے ہین لیکن دوسری طرف اس کا قلع قمع کرنے کے لئے عام شہری کوئی ایسا رول ادا نہیں کررہے ہیں جو باعث اطمینان قرار دیا جاسکے ۔ہر شہری اس بات کا منتظر نظر آرہا ہے کہ سرکار منشیات کا دھندا اور اس کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کس طرح کے اقدامات اٹھاے گی۔جو نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب تک سماجی سطح پر اصلاح احوال کا تعلق ہے تو اس میں عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ جو کوئی ایسا نہیں کرے گاوہ خود ہی اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے کیونکہ کل کو اسی کا بچہ اس لت مین مبتلا ہوگا اس وقت اسے بچانے کون آے گا۔اسلئے سرکاری سطح پر منشیات کے خلاف جو بھی قدم اٹھایا جاے گا ہر شہری کو سرکار کے اس کام میں تعاون دینا چاہئے ۔کل ہی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منشیات سے پاک بھارت کو مودی جی کا خواب قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ منشیات سمگلروں ،دھندا کرنے والوں کے خلاف یہ مہم جاری رہے گی۔امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک ہدف مقرر کیا ہواہے کہ جب ملک آزادی کا صد سالہ جشن منائے گا تو ہندوستان کو منشیات سے پاک ہونا چاہئے ۔وزیر داخلہ نے ورچوئیل موجودگی میں ملک کے مختلف حصوں میں 2416کروڑ مالیت کی 1.44لاکھ کلو گرام سے زیادہ منشیات کو تلف کردیا گیا یعنی اسے نذر آتش کردیا گیا۔اس سلسلے میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ ملک کے ہر شہر میں منشیات کوتلف کردیا گیا۔جموں میں ضبط شدہ 6727کلو گرام ضبط شدہ منشیات کو بھی تلف کردیا گیا ہے ۔اس موقعے پر امیت شاہ نے اپنے پیغام میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوے آج قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ منشیات کا قلع قمع کرنے کی جو مہم شروع کی ہے اس میں اپنا حصہ ادا کریں ۔جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر سرینگر میں بھی ایسے کئی مقام ہیں جہاں منشیات کا دھندا کیا جاتا ہے اور جہاں نشہ آور اشیاءکی لت میں مبتلا لوگ منشیات بھاری قیمتیں ادا کرتے ہوے حاصل کرتے ہیں ایسے لوگوں کی بیخ کنی کرنی چاہئے جو منشیات کا ادھندا کرتے ہوے پکڑے جاینگے اور جو قوم کے مستقبل کو داﺅ پر لگانے کے مرتکب ہونگے ۔










