گذشتہ دنو ں ڈویثرنل کمشنر نے بتایا کہ اگرچہ کئی دنوں سے سرینگر جموں شاہراہ بند ہے لیکن اس کے باوجود وادی میں کسی بھی چیز بشمول پیٹرول اور ساگ سبزیوںکسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے ۔لیکن جو چیز کل مشاہدے میں آئی وہ یہ کہ شہر میں بیشتر پیٹرول پمپ خشک تھے صرف کسی کسی پمپ پر ڈیزل دستیاب تھا اب چونکہ سڑک کا معاملہ ہے اس پر کوئی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی ہے کہ کب اس کی حالت بگڑے گی اور کب اس کی مرمت ہوگی جس کے نتیجے میں اس پر گاڑیوں کی آمدو رفت جاری رکھی جاسکتی ہے ۔اسی دوران اگرچہ کل سرینگر جموں شاہراہ پر گاڑیاں چلتی رہیں لیکن صرف ان گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر منزل مقصود کی طرف جانے کی اجازت دی گئی جو درماندہ تھیں ۔جو مسافر گذشتہ چار دنوں سے سرینگر جموں شاہراہ پر حالات کے رحم و کرم پر پڑے تھے نے راحت کی سانس لی اور وہ منزل مقصود کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔اس دوران جن لوگوں نے مغل روڈ پر سفر کیا انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات مین مغل روڈ پر سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے کیونکہ مغل روڈ کا بیشتر حصہ انتہائی بُری حالت میں ہے ۔اس پر بار بار مرمت کی جاتی ہے روڈی باجری ڈالی جاتی ہے بلیک ٹاپنگ کی جاتی ہے پھر بھی دو چار دنوں کے بعد ہی اس کی حالت پھر بگڑ جاتی ہے اسلئے اس پر جو کام ہورہا ہے اس کی سرکاری طور پر وقتاًفوقتاًنگرانی کا انتظام کیاجانا چاہئے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ جو مرمتی کام ہورہا ہے کیا وہ معیار کے مطابق ہورہا ہے یا نہیں؟ کیونکہ مغل روڈ پر سفر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو کچھ دیکھا اس سے انہوں نے یہی اندازہ لگایا کہ سڑک پر کام کی نگرانی کا کوئی موثر انتظام نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سڑک معمولی بارشوں کے نتیجے میں کھسک جاتی ہے یا اس میں بڑے بڑے کھڈ پڑ جاتے ہیں۔آج کل انجنیرنگ ترقی پذیر ہے ۔سڑکیں جس انداز میں بنائی جاتی ہیں یا جس طرح ان کی تجدید و مرمت کی جاتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن یہاں ہمارے ہاںسڑکیں غالباً دقیانوسی طریقے پر ہی بنائی یا ان کی مرمت کی جاتی ہے کیونکہ یہ سڑکیں جلدی جلدی پھر سے ناقابل استعمال بن جاتی ہیں۔اسلئے متعلقہ حکام کو چاہئے کہ ان کی مرمت و تجدید کے لئے موثر میکنزم اختیار کیاجانا چاہئے تاکہ سڑکوں کی مرمت بھی اچھی طرح سے ہوسکے اور لوگوں کو معمولی بارشوں کی وجہ سے سڑک پر درماندہ ہوکر نہ رہنا پڑے ۔کشمیر ایک پہاڑی خطہ ہے جہاں پہاڑیوں پر بنائی گئی سڑکوں کا بند ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لیکن ان کی مرمت و تجدید کچھ اس طریقے سے کی جانی چاہئے تاکہ یہ ناخوشگوار موسم کا اچھی طرح سے مقابلہ کرسکیں۔ایسا معیاری میٹریل استعمال کیاجانا چاہئے جس میں بارشوں وغیرہ کا منفی اثر نہ پڑ سکے یا بہت کم پڑسکے ۔جب تک جموں اور سرینگر کے درمیان ریل سروس باضابطہ طور پر شروع نہ ہوسکے گی تب اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا کوئی انہونی نہیں ۔سڑک بند ہوسکتی ہے اسلئے ناردرن ریلویز حکام کو چاہئے کہ وہ کام کی رفتار میں تیزی لائیں تاکہ مقررہ وقت سے قبل ہی سرینگر اور جموں کے درمیان ریل چل سکے ۔تاکہ کشمیری عوام راحت کی سانس لے سکیں ۔










