بارشوں نے گذشتہ دنوں سے پورے ملک میں تباہی مچادی جس میں جموں کشمیر بھی شامل ہے ۔یہاں سب سے زیادہ خطہ چناب متاثر ہوا جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ گذشتہ تین دنوں سے گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے بند ہے ۔مغل روڈ کو کسی نہ کسی طرح بحال کیا گیا ہے ۔سرینگر جموں شاہراہ بند رہنے سے وادی میں متعدد اشیاءکی قلت پیدا ہوگئی ہے جن میں پیٹرول اور ساگ سبزیاں شامل بتائی گئیں ۔دہلی اور ہریانہ کے علاوہ پنجاب اور ہماچل میں بھی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے ۔ان ریاستوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے خاص طور پر ہماچل میں تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اطلاعات کے مطابق اس ریاست میں بارشوں سے بیس سے زیادہ افراد کی جانیں چلی گئی ہیں ۔بارشوں کا سلسلہ اگرچہ ابھی بند ہوچکا ہے لیکن سڑکیں اور ندی نالے پانی سے لبا لب بھر چکے ہیں۔دہلی اور ہریانہ کے علاوہ ہماچل میں بارشوں کا پانی گھروں ،دفاتر ،دکانوں ،ہسپتالوں اور فیکٹریوں میں داخل ہوچکا ہے ۔دہلی سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق نوے فیصد سڑکیں زیر آب آگئی ہیں۔اور اب حکومت دہلی اس بارے میں فکر مند ہے کیونکہ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہریانہ کا پانی تیزی سے دہلی کی طرف بڑھتا جارہا ہے اور جب یہ پانی دہلی میں داخل ہوگا تو بڑے پیمانے پر نقصان کو کوئی روک نہیں سکتاہے ۔اس دوران سرینگر میں محکمہ موسمیات نے موسم سے متعلق جو پیشنگوئی کی ہے اس کے مطابق کل یعنی11جولائی سے 14جولائی یعنی جمعہ تک موسم مجموعی طور پر خشک رہ سکتا ہے اس کے بعد 15سے 24جولائی تک درمیانی درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں ۔کہیں کہیں ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے ۔یہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی ہے جو سچ ہونے کی صورت میں مزید تباہی لاسکتی ہے ۔اگرچہ دن کا درجہ حرارت تھوڑا بہت کم ہوگیا ہے لیکن پھر بھی گرمی اپنی جگہ پر قایم ہے ۔سرینگر جموں شاہراہ کل یعنی 11جولائی کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے مسلسل تیسرے روز بھی بند رہی ۔سینکڑوں مال اور مسافر بردار گاڑیاں درماندہ ہیں اور آخری اطلاعات ملنے تک شاہراہ کے کھل جانے کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہا تھا۔اس سے قبل ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ مغل روڈ کی تعمیر کے باجوود ابھی تک سرینگر جموں شاہراہ کا کوئی ایسا متبادل نہیں بن سکا ہے جو اس طرح کی ایمر جنسی کی صورت میں کام آسکتا۔اب لے دے کے مغل روڈ بنایا گیا تھا لیکن اس پر بھی اب آے روز ٹریفک کی آمد و رفت بند رہتی ہے ۔اس طرح یہ سڑک کسی بھی طور سرینگر جموں شاہراہ نمبر 44کا متبادل نہیں کہلائی جاسکتی ہے ۔اب لے دے کے صرف ریلوے پر سب کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں کہ کب سرینگر اور جموں کے درمیان براہ راست ریل چلے گی اس سے بہت سے مسایل خود بخود حل ہوسکتے ہیں اور کشمیری عوام کو موجودہ صورتحال کے نتیجے میں جن پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان سے چھٹکارا مل سکے گا۔











