اس سال میوے کی فصل بری طرح متاثر ہوگئی ہے جس سے بقول فروٹ گروورس ان کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔اس کی ایک خاص وجہ موسم بتائی جاتی ہے کیونکہ اب بھی موسم نامہربان ہے اور اس وجہ سے فروٹ گروورس اور دوسرے کسان پریشان ہیں ۔اس وقت اسٹربیری کی فصل بھی بری طرح متاثر ہوگئی ہے ۔اس میوے سے جڑے فروٹ گروورس جن کی تعداد سرینگر کے مضافات میں ایک ہزار سے زیادہ ہے کا کہنا ہے کہ اپریل مئی کے مہینے کے آخر پر یہ فصل اتاری جاتی ہے ۔ان کسانوں کو اس بات کی امید تھی کہ اب کی بار بمپر کراپ ہوگا یعنی عمدہ فصل ہوگی لیکن خراب موسمی صورتحال کی وجہ سے بیس فی صد اسٹرابیری کی فصل بری طرح متاثر ہوگئی ہے ۔یعنی خراب موسم نے اس کا ستیہ ناس کردیا ہے ۔اسی طرح گیلاس کی فصل کو کچھ زیادہ ہی نقصان ہوا ہے یہ میوہ کافی حساس ہوتا ہے اور اس پر معمولی سا موسمی ہیر پھیر اثر انداز ہوتا ہے یعنی تھوڑی سی بے وقت کی بارش ،تیز آندھی یا ژالہ باری سے یہ فصل تباہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس مین موسم کی مار سہنے کا مادہ بہت کم ہوتا ہے چنانچہ اس وقت گیلاس کی فصل بہت ہی متاثر ہوگئی ہے ۔فروٹ گروورس جو گیلا س کی فصل اگاتے ہیں خاصے پریشان نظر آتے ہین۔آڑو خوبانی سیب اور دوسرے میوے جو پکنے لگے ہیں کی بھی حالت کچھ ایسی ہی ہونے والی ہے یہ بات فروٹ گروورس نے بتائی۔کیونکہ شدت اور بار بار کی ژالہ باری سے میوے دار درختوں کو بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔میوہ جسے کشمیر کی معیشت میں اچھا خاصا مقام حاصل ہے لیکن اس سال نامہر بان موسم نے ان لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو میوہ صنعت سے وابستہ ہیں۔اگرچہ محکمہ ہارٹیکلچر نے اپنی ٹیموں کو فوری طور کام پر لگادیا اور انہوں نے متاثرہ فروٹ گروورس کو ماہرانہ مشورے بھی دئے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے میوے باغوں کو ہوئے نقصان کے بارے میں بھی سروے کرکے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے ۔فروٹ گروورس کا کہنا ہے کہ وہ موسم کی وجہ سے کافی پریشان ہیں کیونکہ ان کو جو امید تھی وہ پوری نہیں ہوسکی ہے ۔فروٹ گروورس کی جو کئی انجمنیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان کی حالت زار کا احساس کرکے ان کی مالی مدد کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں اس سروے رپورٹ کا جائیزہ لینا چاہئے جو محکمے کے ماہرین نے حکومت کو پیش کردیاہے ۔انہوں نے کہا کہ فروٹ کے ساتھ صرف ایک طبقہ وابستہ نہیں بلکہ بہت سے لوگ اس کاروبار سے جڑے ہیں جن کی مالی حالت اس وقت کافی خراب ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وادی میں سیاحتی سیزن عروج پر ہے اور یہاں ہی کشمیری میوے کی مانگ بہت بڑھ جاتی تھی لیکن اس سال بارشوں کی وجہ سے میوے کی کوالٹی پر اثر پڑا ہے اور جتنا بھی بچ سکا ہے اسی پر اب فروٹ گروورس اور میوہ بیوپاری گذارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ایک جانب جبکہ سیاحتی سیزن اس وقت بہت ہی کامیاب رہا ہے اور سیاح دھڑا دھڑ وادی کی سیر کرنے آرہے ہیں لیکن میوے کا کاروبار موسم کی وجہ سے ماند پڑ گیا ہے اور اس لئے حکومت پر اس حوالے سے کافی ذمہ داریاں آن پڑی ہیں۔










