بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے نے زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔کل تک جس چیز کے لئے لوگ جدوجہد کرتے نظر آتے تھے آج اس کی اہمیت گھٹ گئی ہے جبکہ ان کی جگہ کئی نئے چیزوں نے لی ہے ۔اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ کل تک سرکاری نوکری کو آمدن کا سب سے اہم اور لازمی ذریعہ قرار دیا جارہا تھا لیکن آج سرکاری طور پر کچھ ایسی سکیمیں اور نئے کاروبار کو متعارف کیا جارہا ہے جس کے آگے سرکاری نوکری ہیچ نظر آتی ہے اور اس کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خود سرکار بھی نوجوانوں کو روزگار کے نئے نئے میڈیم اپنا کر روزگار کمانے کی ترغیب دے رہی ہے ۔سرکار کا خاص نعرہ یہ ہے کہ نوکری لینے والے سے بہتر ہے کہ نوکری دینے والا بن جانا چاہئے ۔یعنی نوجوانوں کو ایسی سکیموں سے مستفید ہونا چاہئے جس سے وہ روزگارلینے والے نہیںبلکہ روزگار دینے والے بن جائیں۔اس وقت بہت سی سکیمیں سرکار نے شروع کی ہیں اور تازہ سکیم نیشنل لائیو سٹاک مشن ہے جس کو اپنانے کے لئے حکومت بھاری سبسڈی بھی دے رہی ہے ۔سرکاری طور پر اس سکیم کے اہم فواید میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس پر بھاری سبسڈی دی جارہی ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ دلچسپی رکھنے والے افراد یا ادارے تعداد کے لحاظ سے بھیڑ بکریوں کے فارم قایم کرنے کیلئے دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک کی سبسڈی حاصل کرسکتے ہیں ۔مرغوں کو پالنے کے لئے بھی حکومت نے اس سکیم کے لئے بھاری سبسڈی کا اعلان کیا ہے ۔اس بارے میں سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ دلچسپی رکھنے والے افراد یا ادارے انڈوں اور چوزوں کی پیداوار کے لئے پیرنٹ فارم ،رورل ہیچری ،بروڈر یونٹ اور مد ر یونٹ قایم کرسکتے ہیں جس کے لئے ان کو پچیس لاکھ تک کی سبسڈی دی جاسکتی ہے ۔کسانوں سے کہا گیا ہے کہ اہل کسان اپنے مویشیوں یعنی بھینس گائے بھیڑ بکری کے لئے رعایتی بیمہ بھی حاصل کرسکتے ہیں تاکہ ان کے جانوروں کی موت کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پہلے ہی خود روزگار سکیم کے تحت صنعتی کارخانے قایم کرنے والے نوجوانوں کو بھاری قرضے اور سبسڈی دینے کا پہلے ہی اعلان کررکھا ہے جس سے اب تک ہزاروں نوجوان مستفید ہوتے آئے ہیں ان نوجوانوں نے اپنے یونٹوں میں بہت سے دوسرے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو کام پر لگادیا ہے اس طرح یہ نوکریاں دینے والے بن گئے ہیں ۔حکومت خاص طور پر اس وقت وومن انٹر پرینورشپ کے تحت ان خواتین کی بھر پور حو صلہ افزائی کررہی ہے جنہوں نے اپنے کارخانے قایم کئے ہیں یا اپنے چھوٹے چھوٹے یونٹ قایم کرکے سرکار کی سکیمو ں کو عملانے لگی ہیں ۔موجودہ زمانے میں اس طرح کی سکیمیں کافی کار آمد ثابت ہورہی ہیں کیونکہ اس وقت جیسا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر سرکاری نوکریوں کے پیچھے پڑنے کے بجاے از خود سکیموں سے مستفید ہورہی ہیںاور وہ اچھا خاصا منافع بھی کمارہی ہیں ااور دوسری لڑکیوں کو بھی روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں ان لڑکیوں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔










