بڈگام میں جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کی وجہ سے کشمیری نوجوان بدنام تو ہو ہی گئے لیکن اس کے ساتھ ہی خواتین کا ایک ایسا چہرہ سامنے آگیا جس میں خود اعتمادی صاف طور پر نظر آرہی ہے ۔اس لڑکی نے انتہائی جرات مندانہ قدم اٹھا کر ایک ایسے نوجوان کے خلاف قانونی کاروائی کی جس کے سامنے ماں بہن بہو بیٹی کی کوئی وقعت نہیں اور جس کے سامنے خواتین کی کوئی عزت و آبرو یا وقار نہیں ۔ایک مجبور لڑکی نے ایک نوجوان سے لفٹ مانگی اور اس دوران کار میں بیٹھی دوشیزہ کی مجبوری کا ناجائیز فایدہ اٹھا کر اس نوجوان نے اس کے ساتھ اوچھی حرکتیں کرنا شروع کردیں لیکن اس دوشیزہ نے ہمت جٹائی اور اپنا موبایل اور بیگ گاڑی میں ہی چھوڑ دیا اور چلتی گاڑی سے چھلانگ لگائی اور اپنی عزت بچائی ۔اس کے بعد یہ باعصمت دوشیزہ خاموش نہیں بیٹھی بلکہ پولیس کو اس سارے معاملے سے آگاہ کیا اور پولیس نے اس لڑکے کو گرفتار کرنے کیلئے تمام تر ذرایع استعمال کرکے اسے گرفتار کرکے اس کی گاڑی بھی ضبط کرلی ۔بڈگام پولیس کا یہ کارنامہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے جس نے ایک معصوم دوشیزہ کو انصاف دلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ملوث نوجوان کو گرفتار کرلیا ۔اب قانون خود ہی اس کا فیصلہ کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے سماج میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو مجبور دوشیزہ کی مجبوری کا ناجائیز فایدہ اٹھاکر اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے ہیں ۔وادی میں جیسا کہ بار بار ان ہی کالموں میں اس بات کا ذکر کیا جاچکا ہے کہ جرایم محض براے نام تھے صرف ایک آدھ چوری چکاری کے واقعات رونما ہوتے تھے لیکن نہ جانے کس طرح اب ایسے جرایم کا ارتکاب ہونے لگا ہے کہ پوری کشمیری قوم بدنام ہونے لگی ہے ۔کبھی ڈرگس کی آڑ میں قتل و غارت تو کبھی زمین و جائیداد کے جھگڑے ،۔کل ہی پولیس نے چھانہ پورہ میں چھاپہ مار کر آٹھ’ معزز‘ جواریوں کو پکڑا ۔یہ لوگ سب سے پہلے اپنے گھروالوں او رسماج کو کیا منہ دکھائینگے انہو ں نے جو کچھ کیا کیاوہ ان کو زیب دیتا ہے؟ ۔کشمیری سماج میں ایسی خرمستیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں کیونکہ کشمیر ی قوم بااخلاق اور سادگی کا مجسمہ ہیں لیکن اب جو یہاں جرایم کا ارتکاب ہونے لگا ہے وہ واقعی سب کے لئے باعث تشویش ہے۔کشمیر کی معیشت کا 75فی صد دارو مدار سیاحت پر ہے اور جب سیاح یہاں آینگے تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کشمیری لوگ کیسے ہیں؟یعنی سب سے پہلے ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہئے انہیں ہم اپنے طور طریقوں سے اپنا گرویدہ بناسکتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ وہ واپس جاکر اپنے دوست احباب کواس بات پر مجبور کریں کہ وہ کشمیر کی سیر کو جائیں اور اگر یہی سیاح لوگ سنیں گے کہ یہاں اب جرایم کا ارتکاب ہونے لگا ہے تو وہ ہمارے لئے کون سی راے لے کر یہاں سے جائینگے ۔اسکے علاوہ کشمیری عوام کی ایک منفر د امیج ہے جسے ہر صورت میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اسلئے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ جرایم کیخلاف اپنی کاروائی جاری رکھیں اور عام لوگ بھی بدکردار ،جرایم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کاروائی میں ان کے ساتھ برابر تعاون کرینگے ۔










