جھیل ڈل میں ہزاروں مچھلیوں کی پرُاسرار موت پر عوامی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جس طرح بعض افسر اسے سرسری معاملہ قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑانا چاہتے ہیں معاملہ وہ نہیں بلکہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے ۔اگرچہ اس معاملے میں کسی ایک فرد ،محکمے یاکسی ادارے پر الزام نہیں دھرا جاسکتا ہے لیکن اتنا ضرورہے کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ یہ واقعہ کس طرح پیش آیاہے ۔ایک مقامی روز نامے نے بعض ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ جھیل کی گہرائیوں میں درجہ حرارت میں تبدیلی اور آکسیجن میں کمی سے مچھلیوں کی موت واقعہ ہوئی ہے ۔جبکہ ایک آفیسر نے مچھلیوں کی موت کو سالانہ معاملہ قرار دیا ۔چونکہ عام لوگ اس سارے معاملے سے ناواقف ہیں اسلئے وہ کسی کی بھی بات پر یقین کرسکتے ہیں لیکن مقامی ماہی گیر اور ڈل کے کناروں پر رہنے والے لوگوں نے اسے تشویشناک مسلہ قرار دیا اور کہا کہ معاملے کی غیر جانبدار ماہرین کے ذریعہ تحقیقا ت کروائی جاے تاکہ سب کچھ منظر عام پر آسکے ۔گذشتہ کئی برسوں سے وادی کے مختلف دیہات میں محکمہ فشریز کی طرف سے جو فش فارم بنائے گئے ہیں ان میں بعض اوقات ہزاروں مچھلیوں کو مردہ حالت میں پانی پر تیرتے ہوے دیکھا گیا جبکہ اس بارے میں لوگوں نے الزام لگایا کہ مچھلیاں پکڑنے کے لئے تالاب میں بجلی کرنٹ دوڑانے سے مچھلیاں مرگیں جبکہ بعض لوگوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ناجائیز طور پر مچھلیاں پکڑنے کیلئے بعض لوگوں نے تالابوں میں بلیچنگ پاوڈر ڈال دیا جس سے مچھلیاں مرگئی ہیں ۔ان واقعات کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا اور اخبارات مین بھی اس حوالے سے بڑی بڑی خبریں شاہ سرخیوں میں شایع ہوگئیں ۔محکمے نے اس کا نوٹس لیا ہے یا نہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا لیکن اس کے بعد جھیل ڈل میں جو واقعہ رونما ہوا وہ بقول مقامی ماہی گیر تحقیقا ت طلب ہے ۔جہاں تک متعلقین کا کہنا ہے وہ اس کو کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ معمول کا ایک واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ موسم اچانک ناساز گار بن گیا اورپانی کی گہرائیوں میں درجہ حرارت تبدیل ہوگیا اور آکسیجن بھی کم ہوگیا جو مچھلیوں کی موت کا باعث بن گیا ۔مقامی ماہی گیروں کے ایک وفد نے بتایا کہ گذشتہ دو تین برسوں سے ڈل کی منظم طریقے پر صفائی ہورہی ہے اور ہر چیز کا دھیان رکھا جارہا ہے کہ کہیں ڈل کی صفائی سے آبی حیات کو کسی قسم کا نقصان تو نہیں پہنچ سکے گالیکن پھر بھی مچھلیوں کی موت کن وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے جس کی پوری طرح اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ عام لوگوں کے دلوں میں اس حوالے سے جو خدشات پائے جاتے ہیں وہ دور ہوسکیں اس کے ساتھ ہی اس سے ماہی گیروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا اسلئے اس سارے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔بعض لوگ اس معاملے کو مچھلیوں کی اس خاص قسم سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں جس کو حال ہی میں محکمہ لیک کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کی ایک صفائی ٹیم نے بے نقاب کردیا کیونکہ صفائی کرنے والوں نے مگر مچھ جیسی ایک ایسی مچھلی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس قسم کی مچھلی کشمیری مچھلیوں کے لئے تباہی کا باعث بن سکتی ہے ہوسکتا ہے کہ مچھلیوں کی موت کی وہ بھی وجہ ہوسکتی ہے ۔










