کشمیر میں جی 20کانفرنس کو سیاحتی شعبے سے جڑے طبقوں اور دیگر متعلقین نے ایک نئی امید کا غماز قرار دیتے ہوے کہا کہ اس سے اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ اب جموں کشمیر میں معیشت کو استحکام حاصل ہوگا اور لوگوں کی مالی حالت میں سدھار آے گا۔کشمیری عوام جو گذشتہ تین دہائیوں سے انتہائی مشکلات میں مبتلا تھے کو اب اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ ان کیلئے اب ایک نئی صبح طلوع ہوگی اور ان کا مستقبل تابناک بن رہا ہے ۔کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ حکومت ہند نے کشمیر میں بین الاقوامی کانفرنس کو منعقد کرنے کا فیصلہ کرکے انتہائی مثبت قدم اُٹھایا ہے چونکہ یہ اجلاس ٹوارزم سے ہی متعلق ہے اس لئے اس بارے میں ایسے فیصلے متوقع ہیں جن کو عملانے سے سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اس بارے میں سیاحت سے جڑے ایک معروف ہوٹیلئر کا کہنا ہے کہ سال 2019کے بعد سیاحت کو بڑھاوا مل رہا ہے اور ملکی سیاحو ں کی کثیر تعداد وادی کا رخ کرنے لگی ہے جس سے ہوٹل مالکان کے علاوہ ٹرانسپورٹرس ،ہاوس بوٹ مالکان ،شکاراوالوں ،کشمیری مصنوعات کا کاروبار کرنے والوں کو کافی راحت مل گئی اور اب جبکہ جی 20 اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے سیاحت کو ایک نئی جہت ملنے کی امید ہے ۔ادھر سیکریٹری ٹوارزم نے کہا کہ جی 20اجلاس کے انعقاد کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کی طرف سے سال 1990سے کشمیر کے سفر سے متعلق منفی ایڈوائیزری ان ملکوں کی طرف سے واپس لینے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سال 1990میں جب وادی میں ملی ٹینسی شروع ہوگئی تب امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اپنے شہریوں کو کشمیر کی سیر کرنے کے خلاف انتباہی ایڈوائیزری جاری کی گئی تھی جو اب تک برابر جاری ہے اور حالات میں تغیر و تبدل کے باوجود نہ امریکہ اور نہ ہی یورپین ملکوں نے اس ایڈوائیزری کو ختم یا تبدیل کیا ہے لیکن اب جبکہ یہاں بین الاقوامی نوعیت کی کانفرنس منعقد ہورہی ہے اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ متذکرہ بالا ممالک کشمیر کے بارے میں اپنے شہریوں کے نام جاری کی گئی ایڈوائیزری ختم کرینگے کیونکہ جن ممالک نے ایڈوائیزری جاری کردی ہے وہ جی 20گروپ کے ممبران ہیں اور ورکنگ گروپ براے ٹوارزم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کیلئے یہاں آرہے ہیں ۔اسلئے اس صورت حال کو مدنظر رکھ کر کشمیری عوام اس حوالے سے پرامید ہیں ۔سرکاری ذرایع نے سیاحت کے حوالے سے اعداد و شمار کے بارے میں بتایا کہ اگرچہ ملکی سیاحوں کے مقابلے میں گذشتہ برسوں کے دوران بہت کم غیر ملکی سیاح وادی کشمیر کی سیر پر آے ہیں لیکن اس وقت بھی بہت سے جرمن ،فرنچ اور امریکی سیاح وادی میں موجود ہیں اور کشمیر کی خوبصورتی سے وہ کافی محظوظ ہورہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو کشمیر میں کافی حد تک محفوظ تصور کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کوئی ایسی چیز یا واقعہ نہ دیکھا نہ سنا جس کی بنا پر وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ۔چنانچہ عام لوگ اب جی 20اجلاس سے کافی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں ۔جہاں سرکاری طور پر اس اجلاس کو کامیاب بنانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں وہیں دوسری طرف لوگ بھی اجلاس کے منتظر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے کشمیری عوام کو گزشتہ تین دہائیوں سے جاری مالی مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔











