جی 20اجلاس کا اب بے صبری سے انتظار ہورہا ہے ۔اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں اس کی تھیم یعنی موضوع سنسکرت کے مشہور محاورے ”واسو دایاوا ،کٹمبکم“رکھا ہے جس کے معنی ایک زمین ایک خاندان اور ایک ماضی ہے ۔اس موضوع کو جی 20اجلاس میں عملانے کی بھر پور کوشش کی جاے گی اس سے قبل جی 20گروپ کے جتنے بھی اجلاس منعقد ہوئے ان میں اس طرح کی تھیم کو شامل نہیں کیا گیا یعنی ماحولیات اور اس سے جڑے دوسرے معاملات کے بارے میں کبھی بھی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ کسی پروگرام کا حصہ بنایا گیا لیکن انڈونیشیا سے صدارت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے بحیثیت صدر جی 20گروپ عالمی سطح پر ماحولیات کے چلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اسی کو اگلی کانفرنس کا موضوع بنانے کا فیصلہ کرکے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرلی ۔جی 20گروپ ایسے بیس ملکوں کاگروپ ہے جن میں سے بیشتر ترقی پذیر ممالک شامل ہیں جبکہ کئی ایک ترقی یافتہ ہیں جن کی مدد و اعانت سے بہت سے ایسے معاملات جو بظاہر پیچیدہ نظر آرہے ہیں کا حل نکالنے میں مدد مل سکتی ہے اور ممبرملکوں کی معیشت کو فروغ بھی مل سکتا ہے اور استحکام بھی حاصل ہوسکتاہے ۔یہ گروپ سال 1999میں وجود میں لایا گیا میں جو ممبران شامل ہیں ان میں بھارت اس کے بانی ممبروں میں شامل ہے ایک طرف اگر امریکہ ،برطانیہ اور یورپی یونین اس کے ممبران ہیں تو دوسری طرف چین ،بھارت ،سعودی عرب اور انڈو نیشیا بھی شامل ہیں افریقی ممالک میں جنوبی افریقہ اس میں شامل ہیں غرض یہ گروپ ان ملکوں پر مشتمل ہے جوواقعی تیز تر ترقی کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور جن کا مقصد اپنے اپنے ملکوں کے عوام کو ایک خوشحال مستقبل فراہم کرنا ہے اس مقصد کے لئے بھارت نے جو تھیم مقرر کی ہے اور جس موضوع کو لے کر جی 20گروپ بھارت کی صدارت میں آگے بڑھ رہا ہے وہ موجودہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اہم اور لازمی ہے ادھر اس گروپ کا اجلاس سرینگر میں 22سے 24مئی تک سرینگر میں منعقد ہورہا ہے ۔گروپ سیاحت کے فروغ کیلئے آپس میں تبادلہ خیال کرے گا اور اس سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ وادی ایک خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہوگی۔اس بارے میں سیکریٹری سیاحت جناب عابد رشید شاہ کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں شامل ہونے والے مندوبین جموں کشمیر کی سیاحت کیلئے عالمی ایمبیسڈرز کا رول ادا کریں گے اور وہ جموں کشمیر کو سیاحت کے حوالے سے آسمانوں کی بلندیوں تک لے جاینگے ۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران شہر سرینگر میں کسی قسم کی پابندیاں نہیں ہونگی البتہ غیر ملکی اور ملکی مندوبین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لانے اور لے جانے کیلئے مناسب ٹریفک ایڈوائیزری جاری کردی جاے گی۔نہ سکول بند ہونگے نہ بازار ۔کانفرنس کے دوران روز مرہ کا کام کاج جاری رہے گا۔










