اس وقت کووڈ کے بارے میں ہر خاص و عام پریشان ہے اور ہر شخص چاہتا ہے کہ کووڈ پر فوری طور قابو پایا جاے تاکہ لوگ نارمل زندگی گذار سکیں تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ سے بھی زیادہ خطرناک ذیا بطیس ہے جس نے دنیا میں تہلکہ مچارکھا ہے او رجو اپنا دائیرہ تیزی سے بڑھارہا ہے ۔بھارت میں یہ بیماری کچھ زیادہ ہی پریشان کن ثابت ہورہی ہے کیونکہ ایک تو یہ موروثی ثابت ہورہی ہے دوسری بات یہ ہے کہ اب یہ بیماری ان لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے جن کے والدین یا دوسرے رشتہ داروں میں سے کوئی بھی اس بیماری میں مبتلا نہیں رہا ہے ۔پھر کس طرح ذیابطیس ایسے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے ڈاکٹر بھی بذات خود اس بارے میں پریشان ہیں۔بہرحال شوگر کے بارے میں عالمی سطح پر جو اعداد وشمار حاصل ہوے ہیں ان کے مطابق اس وقت دنیا میں 537ملین افراد شوگر کی بیماری یعنی ذیا بطیس میں مبتلا ہیں اور سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان میں سب سے زیادہ 74ملین شوگر کیسز بھارت میں موجود ہیں۔ماہرین طب نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگلی دہائی میں اس میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے ۔غیر صحت بخش کھانا پینا،محنت و مشقت سے جی چرانا اور طرز زندگی میں منفی عادات کی وجہ سے انسان شوگر میں مبتلا ہوجاتاہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کی ایک قسم خود کار قوت مدافعت کی بیماری ہے جہاں مدافعتی نظام لبلبہ میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو تباہ کردیتا ہے جس سے زندہ رہنے کے لئے انسولین کی ضرورت پڑتی ہے ۔بالغ افراد میں ذیابطیس کی شروعاتی قسم اس وقت ہوتی ہے جب جسم میٹابولک وجوہات کی بنا پر تیار کردہ انسولین کو موثرطریقے سے استعمال نہیں کرسکتا ۔لبلبہ کو زیادہ کام کرنے پر مجبورکرتا ہے اور آخر کار پیداوار بند کردیتا ہے ۔غرض ذیابطیس سے بچنے کے لئے ہر شخص کو بھر پور احتیاط برتنی چاہئے ۔جس طرح کووڈ کی نئی لہر سے بچنے کے لئے ڈاکٹر لوگوں کو اس بات کی صلاح دے رہے ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اسی طرح ذیابطیس سے بھی بچاﺅ لازمی ہے ۔یہ ایک خاموش سانپ ہے جب تک اس سے بچنے کی کوشش نہیں کی جاے گی یہ کسی بھی وقت ڈنک مار سکتا ہے ۔اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے جب ہر شخص اپنی عادات بدل دے ۔جنک فوڈ سے اجتناب ،روزانہ ورزش اور کھانے پینے کی اشیا میں احتیاط لازمی ہے ۔ایک بار کوئی اس بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو عمر بھر یہ روگ اس کے ساتھ لگا رہتا ہے اور اسی وقت اس سے پیچھا چھوٹ جاتا ہے جب آدمی یہ دنیا چھوڑ کر عدم کی راہ لیتاہے ۔طبی ماہرین اس بات پر متفق نظر آرہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بھی ذیابطیس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔پولیو شن اور گندگی اور غلاظت بھی اس بیماری کے پھیلنے کی جوہات میں سے ایک ہے جبکہ کثرت مے نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال بھی ذیا بطیس کی وجہ بن جاتی ہے ۔کولڈ ڈرنگس بھی ذیابطیس کے مریض کے لئے زہر ہے اسلئے ان سے بھی اجتناب کیا جانا چاہئے ۔











