نہ جانے کیا بات ہوئی ہے کہ آج کل بیماریوں کا دور چل پڑا ہے کوئی بیماری انسانوں میں پھیل کر ان کے لئے موت کا سامان پیدا کرتی ہے تو کوئی بیماری مویشیوں کو لگ جاتی ہے اور ان کی زندگیوں کا خاتمہ کئے بغیر ان کو نہیں چھوڑ تی۔ابھی کورونا وائیرس ختم نہیں ہوا ہے اور اب مویشیوں کو لمپی بیماری یعنی گانٹھ کی بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔اس بیماری سے اب تک بے شمار مویشی لقمہ اجل بن گئے ہیں اور جو مویشی اس وقت اس بیماری میں مبتلا ہیں وہ بے کار ہیں یعنی ان کا دودھ استعمال کرنے کی اجازت نہیں اس کے علاوہ ان کو جو بیماری لگ گئی ہے اس کا علاج بھی اس لحاظ سے انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ جو شخص ان کو دوائی پلانے اور بہ الفاظ دیگر تیمار داری کرنے پر مقرر ہو اسے بھی بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بیماری اس وقت اپنا کوئی موذی اثر نہیں ڈال رہی ہے لیکن ایسا بھی وقت آنے والا ہے کہ جب یہ بیماری جانوروں سے انسانوں کو لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔یہ بات ڈاکٹروں نے بتائی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور انتہائی حساس دور ہے اور اس میں کوئی بھی بیماری انسان یا جانوروں کو لگ سکتی ہے ۔کورونا وائیرس چین کی پیداوار ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا ۔اس وائیرس نے لاکھوں لوگوں کی جانیں لی ہیں ۔اس کے بعد حال ہی میں منکی پاس نے بھی فکر و تشویش بڑھادی ہے لیکن اب تک اس بیماری میں مبتلاہونے والوں میں سے صرف ایک کی موت ہوئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ بندروں کو تھی جنہوں نے اسے انسانوں میں پھیلادیا ہے اور اب جو لمپی وائیرس ہے یہ بنیادی طور مویشیوں کی بیماری ہے اور اگر احتیاط سے کام نہیں لیاجاے گا تو اس کے شکار انسان بھی ہوسکتے ہیں ۔ادھر بہت سے شہریوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ متعلقہ محکمہ ان لوگوں کے لئے اب تک کسی بھی ایڈوائیزری کو سامنے نہیں لاسکا ہے جو گھروں میں کُتے ،بلیاں اور کبوتر پالتے ہیں ۔یا بعض لوگ خرگوش بھی پالتے ہیں ان لوگوں کے لئے محکمہ اینمل ہسبنڈری کوئی بھی ایسی ہدایت جاری نہیں کرسکا ہے ۔جس سے یہ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کوکتے بلیاں کبوتر یا خرگوش پالنے ہیں یا نہیں۔دوسرے لوگ جو بھیڑ بکریاں وغیرہ پالتے ہیں کیا وہ اپنا یہ کاروبار یا شغل جاری رکھ سکتے ہیں ۔لیکن محکمہ اس بارے میں کچھ نہیں بتارہا ہے اسلئے محکمے کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا لوگوں کو جانور خواہ وہ کسی بھی قسم کے کیوں نہ ہوں پالنے چاہئے یا نہیں ۔ماہرین نے پہلے ہی اس با ت کا خلاصہ کیا ہے کہ لمپی وائیرس خاص طور پر جانوروں میں پایا جاتا ہے یعنی گانٹھ کی بیماری صرف جانوروں میں پائی جاتی ہے لیکن جو شخص یا ایک سے زیادہ افراد مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہونگے انہیں اپنے کنبے سے بھی اس دوران دور رہنا چاہئے تاکہ اس سے ان کا کنبہ یا دوسرے لوگ متاثر نہ ہوں۔ادھر حکومت نے بھی گذشتہ دنوں پڑوسی ریاستوں سے گائے کی درآمد پر پابندی عاید کی ہے اس کے علاوہ جموں کشمیر میں بین ضلعی نقل و حرکت پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے اسلئے لوگوں اور خاص طور پر ان افراد جو مویشی پالتے ہوں یا جو شوقیہ کتے ،بلیاں ،خرگوش ،کبوتر ،بھیڑ بکریاں وغیرہ پالتے ہوں کو زبردست احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔









