اس وقت ایسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جن کے بارے میں پہلے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ اس کے لئے بہت سے عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتاہے ۔یعنی نئی نئی بیماریوں کا جنم کس طرح ہوتاہے؟ اس کے لئے لوگوں کے رہن سہن میں بدلاﺅ ،کھانے پینے کی خراب عادتیں ،سگریٹ اور تمباکو نوشی ،منیشات کا بے تحاشہ استعمال ،ملاوٹی کھانے پینے کی اشیاء،بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحول کی آلودگی کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتاہے ۔کیونکہ اس وقت جن بیماریوں کے متعلق سُنا جارہا ہے پہلے ان کا تصورتک نہیں کیا جاسکتاتھا ۔کچھ برس پہلے تک جب بھی یہاں کوئی بیمار پڑ جاتا تھا اور ڈاکٹر اسے کسی موذی مرض میں مبتلا قرار دیتے تھے تو اس کے گھروالے اس کا علاج باہر جاکر کرواتے تھے جس پر کافی پیسہ خرچ ہوتا تھا اور وقت بھی ضایع ہوتا تھا لیکن اب ایسی بات نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ اب یہاں نازک اور حساس مریضوں کا جس طرح کامیابی کے ساتھ علاج معالجہ کیا جارہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور اس کے لئے کشمیریوں کا سر فخر سے بلند ہوتاہے ۔اس کی ایک مثال صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں کئے گئے حالیہ اوپریشن سے دی جاسکتی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ وہاں ایک ایسے مریض کو لایا گیا جو عارضہ قلب میں مبتلا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے گھروالوں نے اسے کسی نامور کارپوریٹ پرائیویٹ ہسپتال لیا تھا جہاں مختلف ٹیسٹوں سے گذارنے کے بعد مریض کو دل کے عارضے میں مبتلا بتایا گیا بعد میں اس کے گھروالے اُسے صورہ انسٹی چیوٹ لے آئے جہاں معروف سرجری ٹیم جس کی قیادت ڈاکٹر فاروق احمد گنائی ایسوسی ایٹ پروفیسر کررہے تھے اور جس ٹیم میں ڈاکٹر عابد ،ڈاکٹر مدثر اور ڈاکٹر اجمل شامل تھے کے علاوہ پروفیسر شوکت احمد اور ڈاکٹر شفاعت بھی شامل تھے نے ساڑھے چھ گھنٹے تک مریض کا اوپریشن کیا جس کے فوراً بعد اسے میکنیکل وینٹلیشن پر رکھا گیا ۔آہستہ آہستہ مریض صحت یاب ہونے لگاہے اور اس کو نئی زندگی دینے والے ہمارے اپنے ڈاکٹر ز ہیں ۔جن کی صلاحیتوں نے ایک مردہ جسم میں نئی جان ڈالدی ۔ادارے کے سربراہ پروفیسر محمد اشر ف گنائی نے ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ڈاکٹروں کی اس ٹیم نے جس محنت ،جانفشانی اور اہلیت کا مظاہرہ کرکے ایک مریض کی جان بچائی اس کے لئے یہ ڈاکٹر صاحباں مبارکباد کے مستحق ہیں ۔اس سے ہم سب کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگا کہ ہمارے یہاں قابل ڈاکٹروں ،ٹیکنشنز اور اعلیٰ صلاحیت والے نیم طبی عملے کی کوئی کمی نہیں جن کی سخت محنت اور لگن سے ان مریضون کی جان بچائی جاتی ہے جن کو ان کے گھروالے باہر کے ہسپتالوں میں علاج کروانے کے لئے ان کو لے جانے کی کوشش کرتے تھے ۔بہر حال یہ پیغام ہے ان ڈاکٹروں کے لئے ان ٹیکنشنز کے لئے جو اپنے پیشہ وارانہ فرایض کی انجام دہی میں غفلت شعاری برت رہے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں اور کشمیری عوام کی بے لوث خدمت کریں ۔ہمارے سماج میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کہ زبردست تکریم و عزت کی جاتی ہے ۔اسلئے ان کو لوگوں کے اس جذبے اور ان کے خلوص کی قدر کرتے ہوے مریضوں کے تئیں اپنی خدمات پیش کرکے ان کی دعائیں لینے کی کوشش کرنی چاہئے ۔انسان کی خدمت انسانیت کی خدمت ہے اسلئے ہر ایک کو اپنی زندگیوں کو عوام کی خدمت کے لئے وقف رکھنا چاہئے ۔اس وقت یہ دیکھا جارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ روپے پیسے کمانے کے لئے بعض بڑے بڑے ڈاکٹر صاحباں سرکاری نوکریوں کو چھوڑ کر پرائیویٹ ہسپتالوں یا ذاتی کلنیکوں پر جاکر علاج کرتے ہیں ۔وہ یہ سب کچھ پیسے کے لئے کررہے ہیں ۔انہیں پیسوں سے اوپر اٹھ کر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر خود کو لوگوں کی خدمت کو زندگی کا مقصد بنانا چاہئے ۔








