Daily Aftab
18 اپریل ,2026
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار
  • Edition
    • اردو
    • English
Daily Aftab
ADVERTISEMENT

اچانک دل ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور لوگ موت کی نیند سوجاتے ہیں

by Online Desk
28 دسمبر 2022
A A
0
SHARES
52
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp
ADVERTISEMENT

لوگوں کی حرکت قلب بند ہونے اور دل کا دورہ پڑنے کے واقعات میں اضافہ
سال 2021 کے آغاز سے ہی اچانک اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔وادی میں میں دل کے دورے کے واقعات میں 6 گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، اس طرح کی اموات صرف ہندوستان میں ہی واقع نہیں ہوئیں بلکہ پوری دنیا کا یہی حال ہے۔ یہاں ہم دو ممالک کی صورتحال پر غور کرتے ہیں جن کے لیے ڈیٹا دستیاب ہے، انگلینڈ (بشمول ویلز) اور آسٹریلیا۔انگلینڈ اور ویلز میں 2015 کے بعد 2020 میں اموات کے واقعات میں تقریباً 13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جوکہ پچھلے 5 سالوں کی اوسط شرح اموات سے زیادہ ہے۔سی این آئی کے مطابق کورونا کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی جان گئی لیکن یہ حیران کن ہے کہ 2020 سے بھی زیادہ اموات 2022 میں واقع ہوئیں۔ اس بات کی تحقیق کی جانی چاہئے کہ ان اموات کا تعلق ٹیکہ کاری یا لاک ڈاون سے تو نہیں۔ان دنوں ملک بھر میں تمام عمر کے لوگوں میں دل سے متعلق امراض میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ کسی کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے تو کسی کا دل اچانک کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بالکل صحت مند نظر آنے والے لوگ سڑک پر چلتے ہوئے، ڈانس فلور پر رقص کرتے ہوئے اور دفتر میں اپنی میز پر کام کرتے ہوئے بھی لقمہ اجل بن رہے ہیں۔پچھلی بار جب کوویڈ نے تباہی مچا ہوئی تھی، تو کچھ نوجوان یا صحت مند لوگوں کی ناگہانی موت یقیناً حادثاتی طور پر ہوگی لیکن اس معاملہ میں تحقیق کئے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی قسم کی احتیاط برتنے کی ضرورت ہو تو معلوم ہو سکے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی یہ رپورٹ راحت والی ہے کہ 19 سال کی عمر تک کوویڈ سے اموات کی شرح 30,000فیصد اور 69 سال کی عمر تک تقریباً 0.03 فیصد سے 0.07 فیصد تک ہے۔ کوویڈ انفیکشن کی وجہ سے اموات کی اتنی کم شرح کے پیش نظر، اب ہم ٹیکہ کاری کو بند کر سکتے ہیں اور اپنے وسائل اور وقت کو تحقیق پر صرف کر سکتے ہیں۔سال 2021 کے آغاز سے ہی اچانک اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ممبئی میں دل کے دورے کے واقعات میں 6 گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، اس طرح کی اموات صرف ہندوستان میں ہی واقع نہیں ہوئیں بلکہ پوری دنیا کا یہی حال ہے۔ یہاں ہم دو ممالک کی صورتحال پر غور کرتے ہیں جن کے لیے ڈیٹا دستیاب ہے، انگلینڈ (بشمول ویلز) اور آسٹریلیا۔انگلینڈ اور ویلز میں 2015 کے بعد 2020 میں اموات کے واقعات میں تقریباً 13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جوکہ پچھلے 5 سالوں کی اوسط شرح اموات سے زیادہ ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں 15-44 عمر کے گروپ میں زیادہ لوگوں کی موت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ سال 2020 میں بھی نہیں، جب کورونا عروج پر تھا۔ تاہم، 2021 اور 2022 میں اس عمر کے گروپ میں اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔آسٹریلیا کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس ملک نے طویل عرصے تک زیرو کوویڈ پالیسی پر عمل کیا، سخت لاک ڈاو¿ن کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کاری کی سخت پالیسی بھی اپنائی۔ 2022 کے اوائل تک اس نے اپنی زیادہ تر آبادی کو ٹیکہ لگا دیا تھا اور یہاں تک کہ بوسٹر خوراکیں بھی دستیاب کرائی دی تھیں۔دنیا بھر میں اموات کی تعداد میں اضافے کی دو ممکنہ وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے یہ طویل اور سخت لاک ڈاو¿ن کا اثر ہو سکتا ہے۔ لاک ڈاو¿ن نے ذیابیطس، موٹاپا، فاقہ کشی، غربت، بے روزگاری، وٹامن ڈی کی کمی، کینسر کے رجحانات وغیرہ کے واقعات میں براہ راست اضافہ کیا ہے۔ ایک اور وجہ کورونا ویکسین کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی ہو سکتی ہے۔ ویکسین ان لوگوں کو بھی دی گئی جو کوویڈ کی گرفت میں آنے کے بعد صحت یاب ہو چکے تھے اور ان لوگوں کو بھی جن کے لیے خطرے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ کسی کے پاس کوئی ٹھوس ڈیٹا نہیں تھا کہ کس کو ویکسین دی جائے اور کس کو اس سے دور رکھا جائے۔جب تک ویکسین تیار کی گئی، کورونا وائرس ایشیا اور افریقہ کے گنجان آباد ممالک میں بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کر چکا تھا۔ نوجوان اور کمزور لوگ انفیکشن کے بعد صحت یاب ہو گئے اور انہیں ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انسان میں جو قدرتی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے وہ ویکسین سے حفاظت نہیں کرتی۔لیکن ہمیں اس کے لیے پالیسی سازوں کو شبہ کا فائدہ دینا چاہیے کیونکہ جب حالات ابتر ہوں اور جان بچانا اولین ترجیح ہو تو احتیاط میں کوئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی۔ فی الحال صرف اتنا ہی کیا جا سکتا ہے کہ جو لوگ کبھی متاثر ہوئے ہوں ان کو مزید ویکسین نہ لگائی جائے اور ان کی صحت کی نگہداشت کی جائے۔شروع سے ہی کوویڈ ویکسین اور دل کے امراض کے درمیان کوئی تعلق ہے لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہے کہ ویکسین ہی اس کی وجہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔اپریل 2020 کے بعد کورونا کے بارے میں سب سے عام چیز اس کا خوف ہے لیکن کیا اعداد و شمار اس خوف کو درست ثابت کرتے ہیں؟ امریکی صدر جو بائیڈن نے 18 ستمبر 2022 کو اعلان کیا کہ کوویڈ 19 اب ختم ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی تقریباً پورا یورپ ہر قسم کی پابندیاں ہٹا چکا تھا اور لوگوں کے ذہن میں موجود خوف بھی دور ہوتا جا رہا تھا۔ تو کیا یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ 2020 میں 2022 سے زیادہ اموات واقع ہوئی تھیں؟ نہیں۔ 2021 اور 2022 میں اموات کی شرح امریکہ اور یورپ دونوں میں 2020 سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ پھر کوویڈ کے بارے میں شور و غوغا کیوں تھا؟ کیا یہ جان بوجھ کر قائم کیا گیا تھا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وائرس کی وجہ سے لوگوں کی موت ہوئی لیکن لوگوں میں اس کے بارے میں خوف کی کوئی وجہ نہیں تھی۔جس قسم کی سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا عوامی زندگی پر کیا اثر پڑا وہ الگ بات ہے لیکن سوال اب بھی باقی ہے کہ 2020 کے مقابلے 2022 میں زیادہ اموات کیوں؟اس کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک، شدید لاک ڈاو¿ن اور اس کے نتیجے میں ذریعہ معاش کا بحران، کاروبار کا نقصان، ورزش اور جسمانی مشقت میں کمی، سورج کی روشنی سے دور رہنا اور لوگوں کی صحت پر خوف و ہراس کا اثر۔ دوسرے جلد بازی میں ویکسین تیار کرنا اور اسے لوگوں کو لگانا۔ یہ ویکسین ان لوگوں کو بھی دی گئی جو انفیکشن سے صحت یاب ہو چکے تھے۔ اس کا جواز پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی حقائق نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کورونا ٹیکہ کاری کے معاملے میں غیر رسمی رضامندی کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

ADVERTISEMENT

Like this:

Like Loading...

یہ بھی پڑھیے

 بھارت سستی معیاری صحت کی دیکھ بھال کیلئے ایک عالمی منزل کے طور پر ابھرا ہے۔  جتیندر سنگھ

آیوشمان بھارت، پوشن ابھیان بیماری میں کمی، انسانی سرمایہ کی تعمیر۔ وزیراعظم مودی

حکومت صحت سہولیات کو نچلی سطح تک بہتر بنانے کے لیے پرعزم

اسی بارے میں

 بھارت سستی معیاری صحت کی دیکھ بھال کیلئے ایک عالمی منزل کے طور پر ابھرا ہے۔  جتیندر سنگھ
تازہ ترین خبریں

 بھارت سستی معیاری صحت کی دیکھ بھال کیلئے ایک عالمی منزل کے طور پر ابھرا ہے۔  جتیندر سنگھ

03 اکتوبر 2025
وزیر اعظم مودی آج راجوری کے نوشہرہ سیکٹر واردا ہونگے
تازہ ترین خبریں

آیوشمان بھارت، پوشن ابھیان بیماری میں کمی، انسانی سرمایہ کی تعمیر۔ وزیراعظم مودی

24 ستمبر 2025
حکومت صحت سہولیات کو نچلی سطح تک بہتر بنانے کے لیے پرعزم
تازہ ترین خبریں

حکومت صحت سہولیات کو نچلی سطح تک بہتر بنانے کے لیے پرعزم

14 ستمبر 2025
بندر پاکس کی ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ سی ایم او بارہمولہ
تازہ ترین خبریں

بارہمولہ میں چکن پوکس کے معاملے ، لوگوں میں خوف و ہراس

14 ستمبر 2025
(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(صاف ہوا کے عالمی دن پر فضا کو آلودگی سے بچانے کا عزم)

11 ستمبر 2025
بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 205 پہنچ گئی
ادارتی

(سیلاب کی روک تھام کیلئے ندی نالوں کی ڈریجنگ)

25 اگست 2025
کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلے نے تباہی مچادی
ادارتی

(سانحہ کشتواڑ ،ہر آنکھ اشکبار ہر دل اُداس)

16 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

15 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

14 اگست 2025
Next Post
جمع کنندگان بڑے منافع کے لالچ کے خطرات کا دھیان رکھیں :آر بی آئی

آر بی آئی محفوظ اور  زیادہ سستی ادائیگی کے نظام کیلئے  محصولات کی راہ  ہموار کرے گا

اہم خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

صحت

اچانک دل ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور لوگ موت کی نیند سوجاتے ہیں

28 دسمبر 2022
(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(کشمیر کا ثقافتی ورثہ ہمارا سب سے بڑا اثا ثہ)

15 فروری 2023
پاکستان کے بلوچستان شہر میں زلزلہ، 20 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی
تازہ ترین خبریں

پاکستان کے بلوچستان شہر میں زلزلہ، 20 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی

07 اکتوبر 2021
(بابائے صحافت خواجہ ثنااللہ بٹ ایک عظیم قلمکار)
تازہ ترین خبریں

(بابائے صحافت خواجہ ثنااللہ بٹ ایک عظیم قلمکار)

24 نومبر 2024
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • اشتہار دینا
  • ہم سے رابطہ کریں

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

No Result
View All Result
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

ہم کوکیز کو مواد اور اشتہارات کو ذاتی بنانے ، سوشل میڈیا کی خصوصیات فراہم کرنے اور اپنے ٹریفک کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Discover more from Daily Aftab

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

%d