لیفٹننٹ گورنر نے گزشتہ دنوں ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوے کہا کہ ہمیں اپنے ثقافتی میراث اور عظیم تہذیب اور تاریخی سماجی اقدار کو برقرار رکھنا چاہئے ۔ایل جی کے یہ ریمارکس کافی اہمیت کے حامل قرار دئے جاسکتے ہیں کیونکہ کسی بھی قوم کی شناخت اس کے تاریخی ورثے سے جڑی ہے ۔ہمارے ہا ں محکمہ آثار قدیمہ تو موجود ہے لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس محکمے کا کیا کام ہے ؟وادی میں بیشتر قدیم اور تاریخی مقامات خستہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں جن کی تعمیر و تجدید یا انہیں تحفظ فراہم کرنا یا ان کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لئے محفوظ رکھنے کے لئے غالباً کوئی پالیسی ہی نہیں ہے ۔منوج سنہا صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ تحفظ کی کوششوں کو ہماری عظیم تہذیبی اور ثقافتی میراث کی جمالیاتی ،تاریخی اور سماجی اقدار کو برقرار رکھنا چاہئے لیکن اس پر یہاں کوئی عمل نہیں ہورہا ہے ۔اہم تاریخی مقامات کو ہر دور حکومت میں نظر انداز کردیا گیا ۔وادی میں مشہور و معروف قلعہ ہاری پربت ہے جس کے ایک طرف شاریکا دیوی کا مندر ہے دوسری جانب زیارت مخدوم صاحب ؒ اور تیسری جانب چھٹی پادشاہی گردوارہ ہے تاریخی لحاظ سے اس قدر مشہور و معروف قلعے کے ارد گرد جو تاریخی فصیل ہے امتداد زمانہ کے ہاتھوں وہ متعدد مقامات پر ڈھہ چکی ہے ۔کئی جگہوں پر وقت وقت کی حکومتوں نے اس کی تھوڑی سی مرمت کی ہے اور اس کو بچانے کی کوشش کی لیکن یہ سب کاروائی محض براے نام تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخی فصیل اب نیست و نابود ہونے والی ہے ۔اسی طرح بہت سے قدیم مندر مسجدیں اور زیارت گاہوں کا حال بھی بے حال ہے ۔پریہاس پورہ پٹن میں جو قدیم کھنڈرات ہیں وہ اپنی کہانی آپ سناتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے ایسے کئی مقامات ہین جن کی بحالی یا دیکھ ریکھ کے لئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا جارہا ہے ۔ناراں ناگ کنگن میں جو مندر ہے وہ بھی خستہ ہوچکا ہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مندر مرکزی آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے دائیرہ اختیار مین آتا ہے لیکن اب تک اس محکمے کی اس مند ر کی جانب توجہ نہیں گئی ہے جس کی بنا پر یہ مند ر خستہ ہوچکا ہے ۔ہمارے ہاں کشمیر کی پہچان چنار تھا لیکن اس پر بھی اب اس طرح آرے چلائے جارہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں ۔کبھی سڑکوں کی کشادگی کے نام پر وادی کی شان چنار درختوں کو زمین بوس کیا جارہا ہے جبکہ پارکوں یا عمارتوں کی تعمیر کے نام پر ان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا ہے اگر دیکھا جاے تو اس وقت گنے چنے چنار ہی وادی میں موجود ہونگے ۔لیفٹننٹ گورنر نے کہا کہ محکمہ ثقافت کو ماہرین کی مدد سے تحفظ کو اپنانے کی ہدایت دی ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ میں شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور منصوبوں کی سائیٹ پر موثر نگرانی کی جانی چاہئے ۔منوج سنہا نے کہا کہ زیارت گاہوں ،تاریخی ثقافتی اور مذہبی اہمیت کے حامل مقامات کی شناخت کی جانی چاہئے اور کام قدر پر مبنی طریقہ کار اور تحفظ کے لئے مربوط نقطہ نظر پر عمل کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے شروع کریں جو ہر کمیونٹی اور ہر فرقے کی نمایندگی کی عکاسی کرتے ہوں ۔











