جی ایس ٹی کونسل کے حالیہ اجلاس میں عام استعمال کی چیزوں پر جی ایس ٹی کی شرحیں 5%سے بڑھاکر 18%کرنے کے اعلان نے غریب لوگوں کی کمر توڑ کررکھ دی ۔جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں جی ایس ٹی کی نئی شرحیں 18جولائی سے نا فذ ہوگئی ہیں جس سے قیمتوں کو پورا ڈھانچہ بگڑ کررہ گیا اب لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہورہا ہے کہ ایسا کون سا آیٹم ہے جس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔متوسط طبقے اور غریبی سے نیچے کی سطح پر گزر بسر کرنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوگئے ہیں کیونکہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں جو اضافہ کیا گیا وہ کسی لکثرری آئیٹم پر نہیں بلکہ عام استعمال کی چیزوں پر ہوا ہے ۔چنانچہ 18جولائی سے دودھ دہی ،لسی کی قیمتیں بڑ ھ گئی ہیں جبکہ دال چاول کے بھاو بھی کافی حد تک بڑھادئے گئے ہیں جو ایک عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوگئے ہیں ۔دال چاول سے لے کر علاج تک مہنگا کردیا گیا ۔عام لوگ پریشان ہیں کیونکہ آمدنی کے ذرایع محدود ہیں اوپر سے مہنگائی ان حالات میں ایک مقررہ آمدن والے شخص کا کنبہ کس طرح چل سکتا ہے اور کس طرح ان کا گذر بسر ہوسکتا ہے ۔گذشتہ ایام میں سرکار کی طرف سے کہا گیا کہ ملک کی معشیت کافی مضبوط ہے ۔اگر واقعی ملک کی معیشت مضبوط ہے تو پھرجی ایس ٹی کی شرحیں بڑھانے کی کیا ضرورت تھی ۔جی ایس ٹی کونسل کی طرف سے ڈبہ بند اشیاءپر جی ایس ٹی پانچ فی صد سے بڑھا کر اٹھارہ فی صد کردینا گو عام لوگوں اور خاص پر غریبوں پر جبر و زیادتی قرار دی جاسکتی ہے ۔تعجب کا مقام یہ ہے کہ بلیڈ ،کاغذ ،قینچی ،پنسل اور شارپنر تک مہنگے کردئے گئے جبکہ متذکرہ بالا اشیاءبچوں کو پڑھانے کے واسطے لازمی ہیں ۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی طرف سے جی ایس ٹی کی شرحوں میں اضافے سے رٹیل مارکیٹ پر براہ راشت منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو ناقابل برداشت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حکومت کے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیا جارہا ہے اور اسے ظلم وزیادتی سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ایک جانب حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا جاے گاجبکہ دوسری طرف غریبوں کیلئے یہ اقدام انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔اگر ایک شخص ایک ہزار روپے میں ہوٹل کا کمرہ بک کرتا ہے ۔تو اس کی شرحیں بھی بڑھادی گئی ہیں یعنی اس میں 12%جی ایس ٹی کی شرح لاگو ہوگی۔اس شخص کو اب 1120روپے ادا کرنے ہونگے ۔ناریل پانی جو کل تک 50روپے میں بکتا تھا آج اس کی قیمت 70روپے کردی گئی اس سے لوگ بخوبی اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ حکومت نے کس طرح عام لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ لا د دیا ہے ۔لوگ پریشان و حیران ہیں کہ کیا کریں اور کیا نا کریں۔گھروں میں استعمال ہونے والے ایل ای ڈی لیمپس پر بھی اب جی ایس ٹی کی شرحیں بڑھادی گئی ہیں ۔بنکوں کی طرف سے صارفین کے لئے اجرا کئے جانے والے چیک بک پر بھی اب جی ایس ٹی وصول کیا جاے گا ۔جی ایس ٹی کی شرحوں میں اضافے سے قیمتوں کا موجودہ ڈھانچہ جہاں ایک طرف بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے وہاں دوسری طرف دوسری اشیا بھی مہنگی ہوگئی ہیں اور لوگوں کی قوت خرید اب جواب دینے لگی ہے ۔











