جیسا کہ قارئین کرام کو معلوم ہوگا کہ کافی انتظار کے بعد حد بندی کمیشن نے آخر کار اپنی حتمی رپورٹ مرکزی وزارت قانون کو سونپ دی ہے اور کمشن نے انتخابی حد بندیوں کے بارے میں بہت سی سفارشات کی ہیں ۔کمیشن نے جموں کے لئے چھ جبکہ وادی کے لئے صرف ایک نشست کا اضافہ کیا ہے جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ درجہ فہر ست ذاتوں اور قبایل کے لئے16نشستیں محفوظ رکھی گئی ہیں ۔تمام پانچ پارلیمانی حلقوں میں پہلی بار اسمبلی حلقوں کی تعداد مساوی ہوگی ۔حد بندی کے مقصد کے لئے جموں اور کشمیر کو ایک واحد اکائی کے طور پر سمجھا گیا ہے ۔پٹوار سرکل سب سے کم انتظامی اکائی ہے جسے توڑا نہیں گیا تمام اسمبلی حلقے متعلقہ ضلع کی حدود میں ہی رہینگے ۔کمشن کی طرف سے جو حتمی رپورٹ پیش کی گئی اس پر وادی اور جموں میں سیاسی پارٹیوں نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔وادی میں تقریباً تمام پارٹیوں نے کمشن کی سفارشات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوے ان سفارشات کو بقول ان کے کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کی جانب ایک اور قدم سے تعبیر کیا جبکہ بھاجپا اور اس کی حلیف پارٹیوں نے حد بندی کمشن کی سفارشات کو مثبت قرار دیتے ہوے ان کو بروقت اور موثر قرار دیا ۔بہر حال کمشن کی طرف سے مرکزی حکومت کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ اب جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونگے اور یہاں ایک منتخب حکومت قایم ہوگی جو کہ جمہوریت کی روح ہے ۔ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے نئی دہلی میں باوثوق سرکاری حلقوں کے حوالے سے بتایا کہ الیکشن کمشن کا وفد اس کے سربراہ مسٹر سوشیل چندرا کی قیادت میں عنقریب جموں کشمیر کا دورہ کرے گا ۔کمشن کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دورے کے دوران کمشن حاص طورپر وادی میں امن و قانون کی صورتحال کا جائیزہ لینے کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں کے ساتھ بات چیت کرکے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا۔مسٹر سوشیل چندرا نے از خود ایک خبررساں ایجنسی کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا فیصلہ وہاں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے مسڑ سوشیل چندرا نے بتایا کہ حدبندی کمشن نے اب تک جو کا م کیا وہ پورے کا پورا شفاف تھا اور اس نے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے راہ ہموار کردی ۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمشن نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان پر اسی دن سے عمل درآمد شروع ہوگا جس دن مرکز کی طرف سے اس بارے میں باضابطہ نوٹفیکیشن جاری کردیا جاے گا۔الیکشن کمشن انتخابی عمل کے اپنے قوانین پر ہی عمل کرتا ہے ۔اب ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کیاجاے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لئے حتمی تاریخ طے کرنے سے قبل سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لیا جاے گا۔اور اس کے بعد ہی 90نشستوں کے لئے انتخابات کا اعلان کیا جاے گا۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق چونکہ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں یہاں اس وقت فورسز کی اضافی کمپنیاں یہاں تعینات ہین اسلئے اگر یاترا کے اختتام کے ساتھ ہی اسمبلی انتخابات کا قیام عمل میں لایا جاے گاتو یہاں جو فورسز کی اضافی کمپنیاں تعینات ہیں ان کو باہر سے بلانے کی نوبت نہیں آے گی بلکہ یہاں ان کی موجودگی کا الیکشن کمیشن اس طرح فایدہ اٹھا سکتا ہے کہ اسے فوری طور انتخابات کا علان کرنا چاہئے ۔










