عارضی ملازمین کا مسلہ ابھی تک حل نہیں کیا گیا حالانکہ سرکاری طور پر اب تک متعدد مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا کہ ان عارضی ملازمین کا مسلہ حل کیاجاے گااور ان کی نوکریاں مستقل کردی جائینگی ۔ان عارضی ملازمین میں بعض ایسے بھی ہیں جو عمر کی اس حد تک کوکب کا پار کرگئے ہیں جو حصول ملازمت کے لئے آخری حد مقرر کی گئی ہے ۔جبکہ کئی ایک کی شادیاں بھی ہوئی ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں اب اگر ان کی نوکریوں کو مستقل نہیں کیا جاے گا تو وہ کیا کرینگے اور کس طرح اپنے معصوم بیوی بچوں کا پیٹ پالینگے ۔چنانچہ گذشتہ دنوں ملازمین تنظیم کے ایک دھڑے نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور لیفٹننٹ گورنر سے اس بارے میں فوری قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے ۔اس موقعے پر ٹریڈ یونین لیڈروں نے کہا کہ ہزاروں عارضی ملازمین اس وقت عجیب کشمش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کو پتہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کیاجاے گا ؟ایک طرف سرکار کی طرف سے بار بار اس بارے میں یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ عارضی ملازمین کو مستقل کیاجاے گا لیکن دوسری طرف عملی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کیاجارہا ہے اور ملازمین اس وقت مخمصے میں ہیں ۔ان کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا مستقل کیا ہے اور حکومت ان کے ساتھ کیا کرنے والی ہے ۔ٹریڈ یونین لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ معاملہ براہ راست ایل جی کے ساتھ اٹھائینگے کیونکہ یہ انسانی مسلہ ہے جس کے ساتھ ہزاروں عارضی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کا مستقبل وابستہ ہے اگر ان کو مستقل نہیں کیا گیا تو ان کا کیا ہوگا ؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف حکومت دے سکتی ہے ۔نوکریوں کے معاملے میں سرکار کی پالیسی ناقابل سمجھ ہے ۔کبھی کنٹریکچول تو کبھی ڈیلی ویجر اور کبھی یہ دونوں بھی نہیں تو کبھی نیڈ بیسڈ کے نام پر ہزاروں نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی گئیں کئی کئی عارضی ملازمین دس سے پندرہ برسوں سے مختلف محکموں میں کام کررہے ہیں لیکن ابھی تک ان کو مستقل نہیں کیا گیا ہے آج کس طرح ان کو کہا جاے گا کہ اب ان کی ضرورت نہیں حکومت کو ان کے بارے میں فوری طور پر احکامات صادر کرنے چاہئے اور ان کی ملازمتوں کو مستقل بنایا جانا چاہئے ۔وقت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے آج ہر محکمے میں زیادہ سے زیادہ ملازمین کی ضرورت ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرسکیں ۔زندگی آگے بڑھ رہی ہے آبادی تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے کل تک جو کام چار ملازمین کررہے تھے آج دس ملازمین مل کر بھی وہ ایک کام نہیں کرسکتے ہیں اسلئے وقت کا تقاضہ ہے کہ ہر محکمے میں ملازمین کی تقرریاں عمل میں لائی جائیں خاص طور پر وادی میں اس بارے میں ہر دور حکومت میں لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہر خطے میں ملازمتیں فراہم کی گئیں لیکن وادی میں کبھی ایک وجہ سے تو کبھی دوسری وجہ کو بہانہ بنا کر تقرریاں عمل میں نہیں لائی جارہی ہیں ۔آج بھی اگر ہم دیکھینگے تو ہر محکمے میں بہت سے عہدے خالی پڑے ہیں ان پر تقرریاں عمل میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام بغیر کسی تاخیر حل کئے جاسکیں ۔اسلئے سرکار کو چاہئے کہ وہ فوری طور عارضی ملازمین کی مستقلی کا اعلان کرنے کے علاوہ خالی پڑے عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائے ۔










