سردیوں میں اضافے کے ساتھ ہی لوگوں کی مشکلات بڑھنے لگی ہیں ۔اس موسم میں اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔کیونکہ گرم ملبوسات کے علاوہ کھانے پینے کے انداز بھی بدل جاتے ہیں ۔اس موسم میں جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے کہ بیماریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اس بارے میں گذشتہ دنوں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے بھی ایک بیان میں لوگوں سے تلقین کی ہے کہ وہ اس موسم یعنی سر د موسم میں جسم کو گرم رکھنے میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں ۔ڈاکٹر ایوسی ایشن کے سربراہ نے اپنے بیان میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سردیوں کے اس موسم میںہارٹ اٹیک اور سٹروک کے امکانات رہتے ہیں اسلئے ان سے خود کو بچانے کے لئے گرم ملبو سات کے علاوہ کھانے پینےءمیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بچوں اور عمررسیدہ افراد کو زیادہ احتیاط برتنے سے دل کے دورے اور سٹروک سے بچا جاسکتا ہے ۔ انہیں صبح و شام گھروں سے باہر نکلنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ان حالات میں ہسپتالوں میں بھی لوگوں کے لئے مناسب اور معقول طبی سہولیات بہم پہنچانے کی کوششیں کی جانی چاہئے تاکہ جو لوگ ہسپتالوں کا رخ کرینگے ان کو کسی دشواری کے بغیر علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچائی جاسکیں ۔سب لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ پرائیویٹ کلنکوں پر علاج کرواسکیں ۔کیونکہ وہ ڈاکٹری فیس ادا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں اسلئے وہ علاج کے لئے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ۔یہاں ہسپتالوں میں چونکہ کافی رش رہتا ہے اسلئے ہسپتالوں کی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ آوٹ ڈور میں آنے والے مریضوں کو مناسب طریقے پر کسی پریشانی کے بغیر علاج و معالجے کی سہولیات بہم پہنچانے کا انتظام کریں ۔کیونکہ یہ کسی ایک ہسپتال کا مسلہ نہیں بلکہ ہر ہسپتال میں جو آوٹ ڈور ہوتے ہیں ان میں مریضوں اور تیمار داروں کا کافی رش رہتا ہے ۔ان حالا ت کو مدنظر رکھ کر ایڈمنسٹریشن کو ایسے اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ مریضوں کو کسی کوفت کے بغیر ڈاکٹر ی مشورہ مل سکے ۔اس کے ساتھ ہی چونکہ اس وقت کووڈ وائیرس پھر سے پھیلنے لگا ہے اسلئے ہسپتال ملازمین پر یہ ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ مریضوں اور تیمار داروں کو ماسک لگانے کی تلقین کے ساتھ ساتھ ان کو ایک دوسرے سے دور رہنے کی بھی تلقین کریں تاکہ مریض ایک بیماری کے ہوتے ہوے دوسری بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ ہسپتالوں کے آوٹ ڈور میں اس وقت بھاری بھیڑ رہتی ہے کہ مریض اور تیمار دارون کے درمیاں کوئی فاصلہ نہیں ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ چپکے نظر آتے ہیں۔اس سے کووڈ کے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں اس سے پہلے کہ کووڈ متاثرین میں اضافہ ہوجاے اور حکومت کو ایک بار پھر لاک ڈاون نافذ کرنا پڑے لوگون کو از خود احتیاط کرنی چاہئے ۔ادھر اس سیزن میں فلو کے پھیلنے کا بھی خطرہ لگا رہتا ہے اسلئے ایک دوسرے سے دوری اور ماسکوں کے استعمال سے فلو کے پھیلاﺅ پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے ۔











