ان دنوں دنیا بھر میں یوم اطفال منایا جارہا ہے اس سلسلے میں مختلف تقاریب منعقد ہورہی ہیں جن میں بچوں کے حقوق کے بارے میں مقررین اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں اور بچوں کو ان کے حقوق کے حوالے سے ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔بھارت میں بھی یوم اطفال پر تقاریب منعقد ہورہی ہیں اور مختلف سیاسی سماجی اور مذہبی رہنمابچوں کے بارے میں لمبی لمبی ہانکتے ہیں کہ کس طرح بچوں کو لاڈ و پیار سے پالا پوسا جاسکتا ہے اور کس طرح ان کو اچھے شہری بننے کا موقعہ فراہم کیا جاسکتا ہے ۔مقررین یہاں تک کہتے ہیں کہ والدین سے زیادہ سوسائیٹی پر بحیثیت مجموعی بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں راہ راست دکھانے کی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں ۔اس موقعے پر چھوٹے چھوٹے ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں سکٹ پیش کئے جاتے ہیں بچوں کے لئے شاعر نغمے لکھتے ہیں جنہیں یا تو چھاپا جاتا ہے یا جنہیں گایا جاتا ہے پھر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کی خوب پبلسٹی کروائی جاتی ہے ۔یہاں کشمیر میں بھی اس دن کے حوالے سے تقاریب منعقد کی گئی ہیں اور مقررین جن میں زیادہ تر بڑے بڑے افسر وغیرہ شامل ہوتے ہیں بچوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا کے بچوں کا غم ان ہی کے دلوں میں سمایا ہوا ہے لیکن جب اصل حقیقت سامنے آتی ہے تو یہ سب کچھ جھوٹ اور بے بنیاد نظر آتا ہے ۔بچوں کے حقوق کا کون خیال رکھتا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔بچوں کے لئے سب سے پہلے ماں باپ کا لاڈ پیار اور دُلار لازمی ہے اس کے لئے سب سے پہلے مناسب متوازن اور ہر طرح کے وٹامنز سے بھر پور غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوتا ہے ۔اگرچہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بچوں کی پرورش کے لئے سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن غربت ،بے کسی ،بے بسی ،لاچاری اور بیروزگاری کی وجہ سے بچوں کی پرورش بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔جب ابتدا میں ہی بچوں کے لئے درکار غذائیں اسے نہیں ملتی ہیں تو آگے جاکر وہ کس طرح ایک قابل اور محنتی بچہ بن سکتا ہے کس طرح اس کا دماغ صحیح معنوں میں کام کرنے کے قابل بن سکتا ہے ۔اسلئے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ہر ان والدین جو غریبی کی سطح سے نیچے گذر بسر کرتے ہوں کے بچوں کے لئے کوئی ایسا فنڈ قایم کرے جس سے وہ اپنے بچوں کو مناسب غذائیں دے سکینگے ۔دوسرا اہم مسلہ بچہ مزدوری ہے آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ بچہ مزدوری عام ہورہی ہے گھروں میں کارخانوں میں چاے کی دکانوں پر اور فٹ پاتھوں پر کمسن اور معصوم بچے کام کرتے ہوے نظر آتے ہیں جن کو ان کے مالکان معمولی محنتانہ دیتے ہیں ان بچوں کے والدین کیا کرینگے وہ بھی اپنے بچوں سے مزدوری کروانے کے لئے مجبور ہیں ۔جو لوگ بچوں سے کام کرواتے ہیں ان میں وہ افسر او رلیڈراں بھی شامل ہوتے ہیں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے لمبے لمبے بھاشن دیتے تھکتے نہیں ۔کچھ لوگ کمسن بچوں کو گھروں میں کام کروانے کے لئے رکھتے ہیں لیکن ان کے والدین کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ان کو تعلیم دلوائینگے لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے اسلئے حکومت کو چاہئے کہ اگر واقعی بچوں کو ان کے حقوق دلوانے ہیں تو ان کو واپس والدین کے پاس بھیجا جاے اور ان کے والدین کو تلقین کی جاے کہ وہ اپنے بچوں کو مزدوری کے لئے کسی کے پاس نہ بھیجیں۔بلکہ خود ان کا خیال رکھیں ان کو پڑھائیں لکھائیں اور اچھا شہری بننے کا بھر پور موقعہ فراہم کریں۔











