وادی میں تمام اہم او رمعروف سیاحتی مقامات سیاحوں کی سیر و تفریح کیلئے کھلے ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں ۔صرف دور دراز اور کم اہمیت والے سیاحتی مقامات کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے تاکہ سیاح خود کو محفوظ تصور کرسکیں ،معروف سیاحتی مقامات پر سیکورٹی کے بہتر انتظامات ہیں اور سلامتی کا انفرا سٹرکچر بہت ہی اچھا اور قابل اعتماد ہے ۔سرکار نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ صرف دور دراز علاقوں میں صرف چند ہی سیاحتی مقامات کو بند کردیا گیا ہے جبکہ دیگر اہم اور مشہور صحت افزا مقامات کی سیر وتفریح پر کوئی پابندی عاید نہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں سرکار کی طرف سے جو یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 48سیاحتی مقامات کو بند کردیا گیا ہے سے کچھ خدشات پیدا ہوگئے تھے لیکن بعد میں وہ خدشات اس وقت دور ہوگئے جب یہ اعلان کیا گیا کہ معروف سیاحتی مقامات جیسے پہلگام ،گلمرگ ،سونہ مرگ ،مغل باغات اور جھیل ڈل وغیرہ میں سیاح حسب معمول سیر و تفریح کرسکتے ہیں ۔ان مقامات پر سیاحوں کے لئے معقول حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ان مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی ہیں ۔ان مقامات پر سیاحوں کی آمدو رفت برابر جاری ہے ۔اور سیاح آزادانہ نقل و حرکت کررہے ہیں ۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ صرف کچھ کم معروف آف بیٹ مقامات جہاں مجموعی طور پر سیاحوں کا صرف پانچ فی صد آنا جانا لگا رہتا تھا کو صرف احتیاط کے طور پر بند کردیا گیا ۔یہ ایک عارضی عمل ہے ۔سیاحون کو کسی بنیادی سیاحتی سرکٹ کا دورہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔حکام نے بتایا کہ ان سب مقامات وغیرہ پر سیاحوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا جارہا ہے ۔کل دن بھر بھی جھیل ڈل میں سیاحوں کوکشتیوں میں سوار ڈل کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔شہر سرینگر کے مغل باغات میں بھی سیاح دن بھر آتے جاتے رہے ۔گو پہلگام کے حالیہ سانحہ کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد قدرتی طور پر کم ہوگئی ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ سیاح مکمل طور پر یہاں سے چلے گئے ہیں سیاح یہاں موجود بھی ہیں اور ملک کی مختلف ریاستوں سے آبھی رہے ہیں۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ مقامی کمیونٹیز ،انتظامیہ اور سیاحت کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ان کے قیام و طعام کی مکمل سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے اور خطرے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔سیاحت کو پھر سے بحال کرنے اور سیاحوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور معروف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آوا جاہی جاری ہے ۔کل شام بھی سرکاری طور پر بتایا گیا کہ جن مقامات کو بند کردیا گیا ہے وہ جگہیں سب محفوظ ہیں لیکن احتیاطی طور پر ان کو بند کردیا گیا ہے ۔پہلگام میں جو کچھ ہوا وہ انسانیت کا قتل ہے اور سب سے زیادہ کشمیریوں نے اس دکھ درد کو دل سے محسوس کیا ۔کشمیری امن پسند ہیں اور کسی بھی صورت میں بے گناہوں کے قتل کو جائیز نہیں ٹھہراتے ہیں ۔لوگ چاہتے ہیں کہ جو دہشت گرد اس سانحہ میں ملوث ہیں ان کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دی جاسکے ۔نہتے لوگوں پر قاتلانہ حملے کی کسی بھی مہذب سماج میں کوئی گنجایش نہیں ۔اس سانحے نے دلوں کو رنجیدہ کردیا ۔ہر کشمیری کی آنکھیں ابھی بھی نم ہیں اور تب تک لوگ بے چین رہینگے جب تک نہ ملوثین کو کڑی سے کڑی سزا دی جاے گی۔











