بائیسرن پہلگام کے واقعے نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے ۔پوری وادی میں اس دہشت گردانہ واقعے کے خلاف لوگوں میں شدید غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے ۔اس طرح کی وحشیانہ کاروائی نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دی جارہی ہے بلکہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی بھی ہے ۔قرآن واضع طور پر کہتا ہے کہ جس کسی نے انسان کو ’ناحق‘ قتل کیا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا ۔وادی بھر میں اس انسانیت سوز واقعے پر ہر آنکھ نم ہے ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور ہر چہرہ مرجھایا ہوا ہے ۔چاروں اور اداسی چھائی ہوئی ہے اور لوگ ماتم میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔جس طرح بائیسرن پہلگام میں نہتے لوگوں کو قتل کیا گیا وہ درندگی اور وحشیانہ پن کی بد ترین مثال قرار دی جاسکتی ہے ۔چنانچہ اس واقعے کے خلاف کل پوری وادی میں بے مثال ہڑتال کی گئی ۔ہڑتال کی اپیل ٹریڈرز کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ،ٹور اینڈ ٹریولز ایسوسی ایشن ،مختلف بازار کمیٹیوں کے علاوہ میرواعظ ،مفتی اعظم اور دوسرے لوگوں نے دی تھی جو صد فی صد کامیاب رہی ہے ۔سانحہ پہلگام کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے تمام دکانیں ،کاروباری ادارے ،تعلیمی ادارے ،اور ٹرانسپورٹ بند رہا ۔لوگوں نے دل وجان سے اس واقعے کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ہر ایک کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ کشمیری بنیادی طور پر امن پسند ہیں اور جیو اور جینے دو کے اصول پر کاربند رہنے والے ہیں۔یہ جو واقعہ رونما ہوا وہ انتہائی گھناونا فعل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ہر کشمیری کی ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں ۔کشمیری عوام نے اسی وقت جب یہ واقعہ رونما ہوا دکھایا کہ انہیں اس طرح کے واقعات سے دلی صدمہ پہنچا ہے ۔شام کے وقت وادی بھر میں درجنوں مقامات پر لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کرموم بتیاں ہاتھوں میں لے کر اپنا احتجاج درج کیا۔فٹ پاتھوں پر مال بیچنے والے سے لے کر فیکٹری مالکان اور ورکروں نے موم بتیاں ہاتھوں میں لے کر متاثرہ کنبوں کواس بات کا یقین دلایا کہ غم و اندوہ کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم اس غم میں ان کی پشت پر کھڑی ہے ۔ پہلگام میں بھی اسی دن شام کو مقامی لوگوں ،تاجروں ،ہوٹل والوں وغیرہ نے کینڈل لائیٹ مارچ کا اہتمام کیااور اس واقعے کی مذمت کی ہے ۔کشمیری عوام نے بے مثال ہڑتال کرکے یہ بات ثابت کردی کہ وہ دہشت گردی کی کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کرتے ہیں بلکہ کشمیری عوام امن کے حامی ہیں اور امن چاہتے ہیں ۔پہلگام سانحہ کے بارے میں جو ں ہی لوگوں کو جانکاری مل گئی تو بہت سے کنبوں میں چولہے نہیں جلے ۔لوگ کف افسوس ملنے لگے اور حکام سے اپیلیں کی جانے لگیں کہ اس گھناونے اور انسانیت سوز فعل میں ملوث لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔کل دن بھر وادی میں ہڑتال کے دوران مختلف مقامات پر لوگوں نے چھوٹے چھوٹے جلوس نکالے اور اس انسانیت سوز واقعے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ دہشت گردی کا تعلق کسی خاص مذہب یا ذات پات سے نہیں ہوتا ہے بلکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب ہی نہیں ہوتا ہے اسلئے ان عناصر جو اس واقعے میں ملوث ہونگے کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جانی چاہئے جو اس دہشت گردانہ واقعے میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہونگے ۔












