حکومت جموں کشمیر نے حال ہی میں ایک اہم حکمنامے کی رو سے کفایت شعاری کے بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔اس حکمنامے کے تحت ہر محکمے سے کہا گیا بلکہ ہر محکمے کے سربراہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ مختص شدہ بجٹ سے کسی بھی طریقے پر تجاوز نہ کرے ۔جہاں تک حکومت کے اس اقدام کا تعلق ہے یہ ہر صورت میں قابل سراہنا ہے کیونکہ جس قدر کفایت شعاری کی جاے گی اسی حساب سے سرکار کو بجٹ میںبھاری رقومات فضول مدوں پر خرچ کرنے سے نجات مل جاے گی اور حکومت کی آمدن بھی بڑھ جاے گی اور بچت بھی ہوگی۔مثلاً اب تک جو اے کلاس گذیئٹڈ افسر بیروں جموں کشمیر سفر کرتے تھے ان کے لئے اے کلاس جبکہ دوسرے افسروں کے لئے اکانومی کلاس میں سفر کی اجازت تھی ۔اب حکومت نے یہ تفاوت دور کرکے ہر افسر خواہ وہ کسی بھی پوزیشن کا مالک کیون نہ ہو کے لئے صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنے کی اجازت ہوگی ۔کوئی بھی افسر اے کلاس یا اس سے اگلے کلاس مین سفر نہیں کرسکتاہے ۔حکومت نے نئی گاڑیوں کی خرید و فروخت پر پابندی عاید کردی ہے یہ بھی ایک مستحسن قدم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بعض محکموں کے سربراہ وغیرہ آئے دن اپنے لئے نئی نئی گاڑیوں کے آرڈر دے کر سرکاری خزانے پر بلاوجہ بوجھ ڈالتے رہے ہیں ۔کفایت شعاری کے اقدامات میں کہا گیا کہ سمیناروں ،کانفرنسوں اور ورکشاپس کے انعقاد میں کمی کی جاے اور مختصر اخراجات کے ساتھ ان کا انعقاد عمل میں لایا جاے ۔سرکاری محکموں میں ٹیلی فون ،اشتہارات ،پبلسٹی ،مہمان نوازی وغیرہ کے لئے جو رقم مختص کی جاتی ہے اس میں دس فی صدکٹوتی کی ہدایت دی گئی ہے ۔جموں کشمیر سے باہر نمایشوں ،میلوں ،سمیناروں اور کانفرنسوں کے انعقاد کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جاے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جموں کشمیر سے باہر صرف وہی پروگرام منعقد ہونگے جو انتہائی لازمی ہونگے ۔اس کے علاوہ نجی ہوٹلوں میں کانفرنسوں اور میٹنگوں کے انعقاد پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے کیونکہ اب تک دیکھا گیا ہے کہ بعض افسر معمولی سی معمولی پارٹی وغیرہ کے لئے نجی ہوٹل بک کرتے تھے جن پر بھاری رقومات خرچ ہوتی تھی اس پر پابندی ایک عمدہ قدم ہے اور اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے اور ان افسروں کے خلاف کاروائی ناگزیر بن جاتی ہے جو محض دکھاوے کے لئے نجی ہوٹلوں میں کانفرنسوں اور میٹنگوں کا انعقاد عمل میں لانے کے مرتکب قرار پائیں گے کفایت شعاری سے متعلق جو حکمنامہ جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا کہ کوئی نئی پوسٹ نہیں بنائی جاے گی اور ریگولر پوسٹوں کو بھرنا صرف جے کے ایس ایس بی اور جے کے پی ایس سی روٹس کے ذریعے محکمہ خزانہ کی رضامندی سے کیا جاسکتا ہے ۔اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن سے حکومت کے ایسے اقدامات کو تقویت حاصل ہوگی جو اس نے کفایت شعاری کے حوالے سے اٹھائے ہوں ۔حکومت کے ان اقدامات کو جہاں عوامی حلقوں میں پذئیرائی حاصل ہورہی ہے وہیں دوسری طرف یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ بیروزگاروں کو روزگار دلانے کے لئے اقدامات کو کفایت شعاری کے زمرے میں نہیں لایا جانا چاہئے بلکہ کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ بیروزگار نوجوانوں کو سرکاری محکموں میں ایڈجسٹ کیا جاے ۔








