البتہ حکومت کے پہلے سال میں یہ بجٹ ایک بنیاد فراہم کرے گا
ہندوپاک فوجی افسران کے مابین فلیگ مارچ میٹنگ کا مقصد طاقت کے بغیر کشیدگی کو دور کرنا ہے
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں کشمیر یوٹی بجٹ سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ انہوںنے کہا کہ لیکن یہ پانچ سالوں کےلئے بنیاد رکھنے کی شروعات ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بطور یوٹی یہ حکومت کے پہلے سال کا پہلا بجٹ ہے اور آئیندہ برس میں مزید بہتری آے گی ۔ اس موقعے پر انہوںنے کہا کہ ہندوستان اور پاکستانی افوا ج کے مابین فلیگ میٹنگ کا مقصد سرحدی کشیدگی کوکم کرنا اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کے پہلے بجٹ میں تمام عوامی مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگلے پانچ سالوں کے لیے اس کی بنیاد رکھنے کے لیے یہ ایک اچھی شروعات ہو گی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ لوگوں کی توقعات ہیں اور حکومت ان توقعات پر پورا اترے گی۔انہوں نے کہا کہ پہلے بجٹ میں تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے تاہم اگلے پانچ سالوں کے لیے اس کی بنیاد رکھنا اچھی شروعات ہو گی۔وزیر اعلیٰ نے جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں بجٹ سے پہلے میٹنگوں کا انعقاد کیا جس دوران انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بجٹ سے متعلق بات چیت کی اور ان کی آراءاور تجاویز حاصل کیں ۔ اس دوران انہوںنے شوپیاں، بڈگام ، سرینگر، پلوامہ ، کپوارہ بارہمولہ میں اسمبلی ممبران اور دیگر نمائندوں کے ساتھ بات کی اور بجٹ سے متعلق لائحہ عمل مرتب کرنے کےلئے ان کی تجاویز پر غور و خوض ہوا جبکہ گزشتہ روز انہوںنے صوبے جموں میں پری بجٹ کی آخری میٹنگ منعقد کی ۔ دریں اثناءہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان فلیگ میٹنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد طاقت کے استعمال کے بغیر کشیدگی کو کم کرنا ہے۔یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور تعمیراتی کیمپوں پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندوستان کے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“سی ایم عمر جنہوں نے پچھلے سال دو ممالک کے درمیان بات چیت کی حمایت کی تھی، پاکستان پر جموں و کشمیر کے معاملات میں "مداخلت” کرنے کا الزام لگایا۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے (جموں و کشمیر کے معاملات میں) مداخلت سے کبھی باز نہیں آیا۔ یہ کہنا بے وقوفی ہو گی کہ جموں و کشمیر نے جو کچھ دیکھا ہے وہ بیرونی مدد کے بغیر خالصتاً مقامی ہے۔ اس وقت، پچھلے کچھ سالوں میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے (بات چیت کی) کوئی گنجائش نہیں ہے،” عمر عبداللہ نے کہاکہ حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 2024 میں دہشت گردی کے 60 واقعات میں 122 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 32 عام شہری اور 26 سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔نیشنل کانفرنس (این سی) کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو "دوستانہ ورکنگ ریلیشن شپ” کے لیے ہندوستانی حکومت کے کچھ خدشات کو قبول کرنا ہوگا۔













