نئی دہلی میں منعقدہ گرامین بھارت مہوتسو میں پشمینہ شالوں کی نمایش میں لوگوں نے اچھی خاصی دلچسپی دکھائی ہے اور نمایش میں آنے والے لوگوں کی پہلی پسند یہی کشمیری پشمینہ شال بن رہے ہیں ۔کشمیری کاریگروں کے ذریعے تیار کی جانے والی اشیاءجن میں پشمینہ ،سوزنی اور کانی شال شامل ہیں کو ہینڈی کرافٹس نمایش میں رکھا گیا ہے نمایش کا اہتمام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کشمیر دستکاری مصنوعات کو فروغ دینے اور دستکاروں کو مالی استحکام فراہم کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے ۔اس نمایش میں جو کشمیری دستکاری مصنوعات رکھی گئی ہیں وہ بانڈی پورہ میں کاریگروں سے بنائی ہیں جن کو کافی پسند کیا جارہا ہے کیونکہ یہ کشمیر کی لازوال فنکاری کا بے مثال مظاہرہ ہے ۔اس نمایش میں ملک بھر کے دیہی کاریگروں کی طرف سے بنائی جاے والی مصنوعات رکھی گئی ہیں لیکن ان سب میںلوگ کشمیری مصنوعات کی طرف سے سب سے زیادہ متوجہ ہورہے ہیں۔اس نمایش میں بانڈی پورہ کے کاریگروں کی طرف سے تیارکردہ پشمینہ شال کے علاوہ سوزنی اور کانی شال بھی رکھے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ کئی دوسری اقسام بھی رکھی گئی ہیں جن میں شال ،کرتیاں ،پھرن اور سوٹ پیس وغیرہ شامل ہیں ۔یہ کشمیری کاریگری کا منفرد نمونہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور ہاتھ کی صفائی کے باعث لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہورہی ہے ۔یہ نمایش جو آج اختتام پذیر ہورہی ہے میں کشمیری دستکاروں نے جس فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ لوگ کس قدر کشمیری دستکاری مصنوعات کو پسند کرتے ہیں حالانکہ اس نمایش میں ملک کی دوسری ریاستوں کے درجنوں دیہی کاریگروں کی مصنوعات رکھی گئی ہیں لیکن لوگ زیادہ سے زیادہ کشمیری پولین کی طرف متوجہ ہوتے ہوے دیکھے جاسکتے ہیں اور اس میں توسیع کا بھی اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔کشمیری کاریگروں کی جتنی بھی تعریفیں کی جائیں اتنی ہی کم ہیں کیونکہ ان کے ہاتھوں میں جادو ہے ۔یہ لوگ کچھ بھی ہاتھ سے تیار کریں یا بنائیں وہ لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتا ہے ۔یعنی لوگ اس کو پسند کرتے ہیں لیکن افسوس سونے کے ہاتھ رکھنے والے کشمیری کاریگروں یا دستکاروں کی معاشی حالت ٹھیک نہیں کیونکہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوا کیونکہ ملی ٹینسی کی وجہ سے چونکہ بہت کم تعداد میں یہاں وزیٹر آئے جس کا براہ راست اثر کشمیری کاریگروں پر پڑا ۔ان کا روزگار سب سے زیادہ چوپٹ رہا ۔اسلئے اب وقت آگیا ہے کہ ان کی معاشی حالت بہتر بنانے کئے لئے حکومت سامنے آے اور ان کی ہر طرح سے مالی مددکی جاے تاکہ وہ نہ صرف اس سے اپنے فن کو چار چاند لگا سکتے ہیں بلکہ اپنے بال بچوں کے بہتر مستقبل کی راہیں بھی متعین کرسکتے ہیں ۔گذشتہ تیس برسوں میں ملی ٹینسی کے دوران جو لوگ حد سے زیادہ متاثر ہوگئے ان میں کشمیری کاریگروں کا پہلا نمبر آتا ہے ۔ان میں سے بیشتر نے اپنے پیشے بدل ڈالے ۔کوئی آٹو ڈرائیور بن گیا ۔کوئی سیلز مین بن گیا تو کسی نے پٹری پر چھاپڑی لگائی ۔اس طرح وادی میں اب کاریگروں کی تعداد گھٹتی گئی ۔اسلئے ان کے فن اور ہنر کو زندہ رکھنے اور ان کو مالی استحکام پہنچانے کی خاطر اقدامات لازمی ہیں ۔








