چین میں ایک نئے وائیرس کا قہر دیکھنے کو مل رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق روز اس وائیرس میں مبتلا افراد میں اچھی خاصی تعداد فوت ہوجاتی ہے یعنی یہ بھی کووڈ 19کا دوسرا روپ مانا جارہا ہے ۔کیونکہ جو لوگ اس وائیرس میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ بھی کووڈ کی طرح پہلے موسمی بیماری یعنی انفلوائزا کا شکار ہوتے ہیں ۔سانسوں میں تکلیف اور سینے میں جلن ،یہ اس کی نشانیاں ہیں اسے HMPVکہا جاتا ہے جس نے اب تک کئی سو افراد کی جانیں لی ہیں ۔اس دوران ڈبلیو ایچ او یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر صورت میں احتیاط برتیں تاکہ یہ بیماری پھیلنے نہ پائے اور جتنی پھیل چکی ہے اس سے آگے نہ جانے پائے ۔دریں اثنا بھارت میں وزارت صحت نے اس بات کا پورا یقین دلایا ہے کہ ابھی تک اس وائیرس میں مبتلا کسی بھی شخص کی بھارت میں موجودگی کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔پھر بھی ماہرین طب کی طرف سے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ ہر صورت میں احتیاط برتیں اور ماسک کا استعمال مسلسل کرتے رہیں ۔جسمانی صفائی کی طرف بھی دھیان دیا جاے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس وائیرس کے سردیوں میں پھیلنے کے زیادہ امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے اس لئے لوگوں کو چاہئے یعنی ہر عمر کے لوگوں پر یہ لازم ہے کہ وہ فوری طور پر احتیاطی تدابیر استعمال کریں تاکہ کسی بھی وائیرس سے بچا جاسکے ۔چونکہ وادی اس وقت سرد ترین موسمی صورتحال سے دوچار ہے اسلئے چھاتی اور سانس کی بیماریوں کے پھیلنے کے امکانات برابر موجود ہیں ۔امراض سینہ کے معروف معالج ڈاکٹر نوید نذیر شاہ کا کہنا ہے کہ چین میں جس وائیرس نے تہلکہ مچادیا ہے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بقول ان کے ایچ ایم پی وی ایک پرانا وائیرس ہے اور اس کی شروعات سانس کی تکلیف سے ہوتی ہے ۔ڈاکٹر موصوف کا کہنا ہے یہ زیادہ تر عام زکام کی طرح ہے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ عام احتیاطی تدابیر استعمال کریں ۔جو سانس کے انفیکشن کو روکنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کو کھانسی اور زکام ہے تو وہ اس کے رابطے میں آنے والے افراد سے دور رہنے کی کوشش کریں۔تاکہ صحت مند افراد میں اس طرح کا انفیکشن اثر نہ کرسکے ۔اس کے لئے کوئی خاص علاج نہیں ہے ۔کوئی بھی شخص جو نزلہ زکام اور سانس کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا ہو تو اسے خود کو الگ کرنا چاہئے غرض دوا نہیں البتہ احتیاط اور پرہیز سے ہی اس وقت لگنے والی بیماریوں یعنی موسمی بیماریوں سے بچا جاسکتاہے ۔چین میں پانچ برسوں کے بعد کووڈ جیسا انفیکشن پھیلنے کے نتیجے میں وہاں کہرام مچ گیا ہے ۔نئے وائیر س میں مبتلا افراد میں نزلہ زکام جیسی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں ۔اس کے علاوہ سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔وہاں تقریباً دوسو افراد اس بیماری میں مبتلا ہوکر چل بسے ہیں ۔اسلئے چونکہ یہاں اس وقت سرما کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ لوگ بھر پور انداز میںاحتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ہر طرح کی موسمی بیماریوں سے بچا جاسکے ۔












