شمالی کشمیر اور جنوبی کشمیر میں بھاری برف باری، سیاحتی مقامات پر سیلانیوں کا غیر معمولی رش
سرینگر // محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر میں تازہ برف باری کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یو پی آئی کے مطابق اتوار بعد دوپہر وادی کشمیرکے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں برف باری شروع ہوئی جس وجہ سے فضائی اور زمینی ٹرانسپورٹ متاثر ہوا ہے۔ شمالی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ بارہ مولہ ، سوپور ، کپواڑہ ، ٹنگڈار ، کیرن ،اوڑی، ٹنگمرگ اور گلمرگ میں بھاری برف باری ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ برف باری کی وجہ سے ان علاقوں میں سفید چادر بچھ گئی ہے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں، کولگام ، اننت ناگ اور پلوامہ میں بھی اتوار کی سہ پہر سے برف باری شروع ہوئی جو یہ رپورٹ فائل کرنے تک جاری تھی۔ برف باری کی وجہ سے جنوبی اور شمالی کشمیرکے دور افتادہ علاقے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ سری نگر میں اتوار بعد دوپہر سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ تازہ برف باری کی وجہ سے وادی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ آنے والے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید برف باری کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ چھ جنوری کی صبح تک پہاڑی اور درمیانی علاقوں میں بھاری برف باری کا امکان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ برف باری کی شدت 5 جنوری کی رات دیر گئے یا 6 جنوری کی صبح تک جاری رہ سکتے ہے جبکہ 6 جنوری کی دوپہر کے بعد موسم کی بہتری متوقع ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس دوران جموں کے میدانی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 7 سے 10 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ 11 سے 12 جنوری کو پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے۔محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ 4 جنوری کی شام سے 5 جنوری کی رات دیر گئے تک کشمیر اور چناب وادی کے پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دوران وادی میں 5 جنوری کو زمینی و فضائی ٹرانسپورٹ میں خلل واقع ہوسکتی ہے۔ایڈوائزری میں سیاحوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اہم گذر گاہوں اور پہاڑی علاقوں پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے اور برفانی حالات کے یش نظر ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔














