سردیوں کے تیور ہر گذرتے دن کے ساتھ سخت ہونے لگے ہیں جس سے لوگ انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں ۔بیماریوں نے سب کو جکڑ لیا ۔بچوں سے لے کر عمر رسیدہ لوگوں تک سب کے سب موسمی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ہر ہسپتال ،کلنک ،نرسنگ ہوم ،شفا خانے غرض ہر ایک طبی مرکز پر مریضوں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو ملتاہے ۔ڈاکٹروں اور دوسرے طبی ماہرین کی طرف سے وقتاًفوقتاًصحت سے متعلق ایڈوائیزیاں جاری کرنے کے باوجود بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔بچہ ہسپتال میں تو بے شمار معصوم بچے علاج معالجے کے لئے لائے جاتے ہیں ۔ہر ہسپتال اور دوسرے طبی مراکز پر بے پناہ بوجھ پڑا ہے ۔اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ سب کچھ موسم کی نامہربانی کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں ۔لاکھ احتیاط برتنے کے باوجود بیماریاں ایسے چمٹ رہی ہیں کہ جانے کا نام ہی نہیں لیتی ہیں ۔ادھر ماہرین موسم کی پیشن گوئیوں کے مطابق فی الحال اس مہینے میں بھی موسم میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔معمولی مغربی ہواﺅں کا کبھی کبھی اثر ہوتا ہے لیکن وہ بھی دیر پا نہیں رہتاہے ۔اس طرح چلہ کلاں کی آمد کے باوجود موسم میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل سکتی ہے یعنی برفباری کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں جس سے سردی میں مزید اضافہ ہونے کی امید ہے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ خشک موسم کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں اسلئے حد درجہ احتیاط برتنے اور کھانے پینے میں بھی ایسی چیزوں سے پرہیز کیا جانا چاہئے جن سے بیمار پڑنے کا اندیشہ ہو۔کہا جارہا ہے کہ درجہ حرارت منفی دس سے بھی نیچے جاسکتاہے اگر موسم اسی طرح رہے گا اور دن کو دھوپ نکلے گی ۔اس وقت رات کا درجہ حرارت منفی 5تک گرنے لگاہے اس میں مزید اضافہ ہوگا ۔غرض موسمی بیماریوں سے بچنے کا واحد طریقہ احتیاط اور پرہیز ہے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں نیم گرم پانی پینا چاہئے تاکہ جسم میں پانی کی مقدار کم نہ ہونے پائے ۔کیونکہ اگر پانی کی مقدار کم ہوگی تو یہ صورتحال جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔ہاتھ پاﺅں کو خاص طور پر گرم رکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ جتنے ہاتھ اور پاﺅں گرم رہینگے بیماریاں اتنی ہی دور بھا گ جاینگی ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس موسم میں شوگر ،ہائیپر ٹینشن اور عارضہ قلب میں مبتلا لوگوں کو زبردست احتیاط برتنا چاہئے تاکہ موسم کے بُرے اثرات سے بچا جاسکے ۔ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر گھر میں ایک بچہ نزلہ زکام کھانسی میں مبتلا ہو یا اسے بخار ہو تو دوسربچوں کو اس کے پاس پھٹکنے بھی نہیں دینا چاہئے اور متاثرہ بچے کو فوری طور ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہئے ۔ہمارے یہاں وادی میں لوگوں میں ایک بُری عادت یہ بھی ہے کہ وہ از خود ڈاکٹر بن جاتے ہیں یعنی بیماریون کا خود ہی علاج کرتے ہیں اور خود ہی ادویات تجویز کرتے ہیں ۔یہ ایک ایسا غلط طریقہ کار ہے جس سے زندگی بھی جاسکتی ہے ۔اسلئے از خود ادویات لینے سے گریز کرنا چاہئے اور فوری طور سند یافتہ ڈاکٹر کے پاس جاکر اس کا علاج شروع کرنا چاہئے اور ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال کرنا چاہئے ۔غرض موسم کی بیماریوں سے بچنے کے لئے ہر صورت میں احتیاط برتنا لازمی ہے اور بچوں او رعمر رسیدہ افراد کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔












