شدت کی سردی میں لوگوں کو صحت سے جڑے بے شمار مسایل و مشکلات درپیش ہوتے ہیں ۔ڈاکٹری مشورے کے علاوہ خود کو کسی بھی متوقع صورتحال سے بچانے کے لئے زبردست احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔خاص طور پر ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کو شدت کی سردی میں ہر صورت میں اس حد تک احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو کوئی بھی ایسی بیماری جکڑ نہ لے جو ان کی جان کی دشمن بن سکتی ہے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ خاص طور پر شوگر اور بلڈ پریشر سے متاثرہ لوگوں کو شدت کی سردیوں میں زبردست احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔کیونکہ مختلف ہسپتالوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے یہ انکشاف ہوتاہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر مریضوں کو اس طرح کی سردیوں میں تھوڑی سی بھی بے احتیاطی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ۔ادھر جن مریضوں کو شوگر اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کی بنا پر ہسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے وہاں ان میں سے بہت سے مریض دم توڑ بیٹھتے ہیں ۔ایک مقامی روزنامہ نے اس خبر کے حوالے سے لکھا ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے شوگر ،ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد میں سٹروک آنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جن افراد کو سٹروک آتے ہیں ان میں سے پچیس فی صدہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ بیٹھتے ہیں۔جبکہ ہسپتال پہنچنے پر اٹھارہ فی صد مریضوں کی موت چکی ہوتی ہے ۔ماہرین طب کے مطابق موسم سرما میں کم درجہ حرارت کی وجہ سے زیادہ افراد سٹروک کے شکارہوتے ہیں ۔اور اس کی بڑی وجہ نظام مدافعت کی کمزوری ہوتی ہے ۔مدافعتی نظام عمر رسیدہ افراد اور بچوں کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر ،شوگر اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سٹروک ہونے کا زیادہ خطرہ رہتاہے کیونکہ ان سب کا مدافعتی نظام کمزور ہوتاہے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ شوگر اور دوسری حساس قسم کی بیماریوں میں مبتلا افراد جن میں چھاتی کے مریض بھی شامل ہیں کو زبردست احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جب دماغ تک خون کی فراہمی میں کسی بھی قسم کا خلل پڑتاہے اس سے سٹروک ہوتا ہے ۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ شوگر ،ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو سٹروک کا زیادہ خطرہ رہتاہے ۔اسلئے ان کو اپنے ہاتھوں اور پاﺅں کو ہر حال میں گرم رکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے علاوہ عام لوگوں کو بھی جو کسی بھی قسم کی کمزور ی محسوس کرتے ہونگے کو شدت کی سردی میں صبح اور شام کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ سردی سے جسم کے بعض حصے سکڑ جاتے ہیں ۔خون کا دباﺅ کم ہوجاتا ہے اور انسان کو مختلف بیماریاں جکڑ لیتی ہیں اسلئے علاج سے بہتر پرہیز ہے یعنی سردیوں سے ہر صورت میں بچاﺅ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔تاکہ سڑوک وغیرہ سے بچا جاسکے ۔اس کے ساتھ ماہرین طب نے لوگوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے کی صورت میں از خود کوئی بھی دوائی لینے سے گریز کریں اور فوری طور نزدیکی طبی مرکز میں موجود ڈاکٹروں سے رابط قایم کریںتاکہ وہ مناسب ادویات تجویز کرسکیں جس سے مریضوں کو شفایاب ہونے میں مدد مل سکے ۔











