گذشتہ کچھ عرصہ سے ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں جن میں منشیات کا دھندا کرنے والوں کے خلاف پولیس کسی نہ کسی طرح کی ایسی کاروائی کرتی ہے جس سے وہ قانون کے شکنجے میں آسکیں۔اب کی بار پولیس نے ایک ایسا زبردست قدم اٹھانا شروع کیا ہے جس کی ہر مکتب فکر کی طرف سے نہ صرف سراہنا کی جارہی ہے بلکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس طرح کی کاروائیوں کو جاری رہنے دیا جانا چاہئے تاکہ نوجوان نسل کا مستقبل تاریک بنانے والوں کو رہنے کے لئے ٹھکانہ بھی نہ رہے ۔اخبارات اور سوشل میڈیا میں پولیس کی اس کارکردگی کی خوب چرچہ ہے ۔کل ہی بٹہ مالومیں ایک منشیات فروش کی تین کروڑ کی جائیداد قرق کرلی گئی ہے جبکہ اس سے قبل اسی طرح کی جائیدادیں مختلف علاقوں میں ضبط کرلی گئیں ۔پولیس کا یہ ایک ایسا قدم ہے کہ دوسرے ایسے عناصر جو اسی طرح کے دھندے میں مصروف ہونگے عبرت حاصل کرسکیں لیکن لگتاہے کہ وہ اس کے برعکس آرام سے اپنا یہ حرام کا دھندا چلا کر نوجوانوں کے مستقل کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔یہ بات سچائی پر مبنی ہے کہ پولیس منشیات کا دھندا کرنے والوں کے خلاف جس طرح کاروائی کرتی ہے وہ نہ صرف قابل سراہنا ہے بلکہ اس سے بڑی حد تک وادی اور خاص طور پر شہر میں ڈرگس فروخت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔لیکن پھر بھی وہ اپنی قبیح حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس سارے ڈرگ مافیا کے پیچھے کون لوگ ہیں جن تک ابھی پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں پہنچے ہیں ۔اگر ایک بار وہ قانون کی زد میں آینگے تو ڈرگس کی خرید و فروخت میں قابل ذکر حد تک کمی آسکتی ہے ۔تعجب اس بات کا ہے کہ روز اس طرح کی خبروں سے اخبارات بھرے رہتے ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ پولیس نے اتنے اتنے منشیات فروشوں کو پکڑ لیا یا ان کی جائیدادیں قرق کرلیں لیکن اس کے باوجود یہ دھندا جاری و ساری ہے اور اس میں عوامی حلقوں کے مطابق کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔کون ہیں وہ لوگ جو اس سارے مافیا کو انگلیوں پر نچاتے ہیں اور خود قانون کی زد میں آنے سے بچ جاتے ہیں ۔پولیس اگر ان ہی لوگوں پر ہاتھ ڈالے گی تو ڈرگس کے استعمال میں بہت حد تک کمی آسکتی ہے ۔جو نوجوان ڈرگس کا استعمال کرتے ہیں ان کی حالت کیا سے کیا ہوگئی ہے اس کا دکھ درد صرف ان کے اپنے محسوس کرسکتے ہیں ۔ڈرگس سے سب سے پہلے دماغ معمول کا کام کرنا چھوڑ دیتاہے اور اس کے مسلسل استعمال سے جسم کے باقی اعضا ءکام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور وہ سب صرف ڈرگس کے محتاج رہتے ہیں ۔یہ قوم کے نوجوان ہیں جن کو یہ ڈرگ سمگلر بے کار کرکے چھوڑ دیتے ہیں انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ان نوجوانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ان کو صرف اپنے پیسے سے مطلب ہے ۔اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ ڈرگ سمگلروں کے بارے میں پولیس کو آگاہ کریں تاکہ ان کو پکڑ کر انہیں قرار واقعی سزا دی جاسکے ۔یہ ایک نسل کے دشمن ہوتے ہیں جن کی وجہ سے قوم اپنے قابل فخر بیٹوں سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔اطلاعا ت کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ساڑھے دس کروڑ سے زیادہ کی جائیداد ضبط کرلی گئی ۔ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور چھ سو سے زیادہ مقدمات عدالتوں میں پیش کئے گئے ۔












