کابینہ کے وزیر ستیش شرما نے گذشتہ دنوں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایسے دو اہم مسلوں کو چھیڑا جو نہایت ہی اہمیت کے حامل قرار دئے جاسکتے ہیں ۔ستیش شرما نے میڈیا نمایندوں کی طرف سے پوچھے گئے مختلف سوالوں کے جواب میں کہا کہ ڈبل راشن فراہم کرنے سے پہلے راشن کارڈوں کا سروے کیا جاے گا اور قصور واروں کے خلاف کاروائی کی جاے گی جبکہ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے محکمہ ہیلتھ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دس برسوں سے ہیلتھ سیکٹر کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اب اسے چست درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غریب اور بے سہارا لوگوں کو معقول اور مناسب طبی امداد وقت پر فراہم کی جاسکے ۔وزیر موصوف نے کہا کہ ڈبل راشن کی فراہمی سے قبل راشن کارڈوں کا دوبارہ سروے ہوگا اور جن آفیسروں اور اہلکاروں نے جعلی راشن کارڈ بنائے ہونگے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جاے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈبل راشن فراہم کرنے کے لئے سسٹم میں سدھار لایا جارہا ہے ۔انہوں نے محکمہ ہیلتھ کے بارے میں کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں بیس ہزار نیم طبی عملے اور پانچ ہزار ڈاکٹروں کی کمی ہے جسے اب تک پورا نہیں کیا گیا۔چنانچہ اس سے مریضوں کو کتنا کچھ نقصان ہوا ہوگا اس اندازہ ہر کوئی بخوبی لگا سکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں اس وقت بھی ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے ۔جس کا براہ راست اثر مریضوں پر پڑتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے گذشتہ دس برسوں کے دوران ہیلتھ سیکٹر کا کافی نقصان ہوا ہے جس کا براہ راست اثر مریضوں پر پڑا ہے ۔جہاں تک وزیر موصوف کا تعلق ہے ان کا یہ کہنا کہ جعلی راشن کارڈ وں کا سراغ لگایا جاے گا ایک درست قدم ہوگا کیونکہ جو لوگ جعلی راشن کارڈوں کا استعمال کرکے سرکاری چاول لیتے ہیں وہ بے ایمانی کے مرتکب ہورہے ہیں اور وہ کڑی سزا کے مستحق ہیں اسلئے ایسے لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لانا ان کے ساتھ انصاف کے مترادف ہوگا ۔اس کے ساتھ ہی ان افسروں اور اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ طور پر کاروائی کی جانی چاہئے جنہوں نے بعض لوگوں کو جعلی راشن کارڈ بنانے میں مدد و اعانت کی ہے ۔صحت کے معاملے میں کسی سمجھوتے کی گنجایش نہیں ہوتی ہے ۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ سیکٹر میں جتنی بھی خامیاں یا کمی بیشی ہو اسے دور کیا جانا چاہئے ۔وزیر موصوف نے بذات خود اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہسپتالوں میں بیس ہزار نیم طبی عملے اور پانچ ہزار ڈاکٹروں کی کمی ہے ۔اسلئے مزید وقت ضایع کئے بغیر ان عہدوں کو پُر کیا جانا چاہئے تاکہ مریضوں کی اچھی طرح سے نہ صرف دیکھ بھال کی جاسکے بلکہ اس سے ان کو معقول اور مناسب طبی امداد فراہم کی جاسکے ۔ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی بھر پور موجودگی اسلئے ضروری ہے کیونکہ یہاں کا غریب طبقہ پرائیویٹ کلنکوں پر جاکر اور ڈاکٹروں کی بھاری فیس ادا کرکے ان سے علاج کروانے کا متحمل نہیں ہوسکتاہے ۔اس کے ساتھ ہی تشخیصی لیبارٹریوں میں جو مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ان کے لئے بھی یکساں فیس مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔لوگوں کو امید ہے کہ موجودہ دور میں ان تمام خامیوں کو دور کیا جاے گا جو مختلف محکموں میں پائی جارہی ہیں اور جن کی وجہ سے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔












