وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گذشتہ دنوں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا جائیزہ لینے کے دوران کئی اہم فیصلے کئے جن کو عوامی حلقوں کی طرف سے زبردست سراہا جارہا ہے کیونکہ ان سے ملازمین اور افسروں کو ایک تو آگے بڑھنے کا موقعہ مل سکتاہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی کی بھی حق تلفی نہیں ہوگی ۔اب تک دیکھا گیا ہے کہ کبھی کسی محکمے کا سربراہ یا کوئی افسر حکام کی نظروں میں لاڈلا ہوتا ہے تو اسے یا تو اس کی من پسند جگہ پر اٹیچ کیا جاتا رہا ہے یا ریٹائیر منٹ کے بعد اسے اسی عہدے پر رہنے کے لئے راستہ نکالا جاتا ہے یعنی اس کی ملازمت میں توسیع کی جاتی رہی لیکن اب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دوبارہ ملازمت ،توسیع یعنی ایکسٹنشن ،اور اٹیچمنٹ پر مکمل پابندی عاید کرکے عوام دوست قدم اٹھایا ہے ۔جس کی ہر مکتب فکر کی طرف سے سراہنا کی جارہی ہے ۔جس اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا اس میں وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر دو محکموں کا نام لیا یعنی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ۔دونوں محکموں میں بہت سے افسر اور ملازموں کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ وہ یا تو ایکسٹنشن پر ہیں یا من پسند جگہوں پر اٹیچمنٹ کے مزے لوٹ رہے ہیں۔متذکرہ بالا محکموںمیں اس طرح کی اٹیچمنٹس کو فوری طور پر ختم کرکے ملازمین کو ان جگہوں پر واپس تعینات کیا جانا چاہئے جہاں ان کی اوریجنل پوسٹنگ ہے ۔خاص طور پر دیہی سکولوں اور دفاتر میں تعینات اثر ورسوخ والے ملازمین یا اساتذہ کے علاوہ محکمہ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں متعدد ڈاکٹروں وغیرہ کے بارے میں بھی اس قسم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ بہت سے ملازمین ڈاکٹر اور افسر وغیرہ اب بھی اٹیچڈ پوسٹوں پر کام کررہے ہیں جبکہ ان کی اوریجنل پوسٹنگ کسی دوسری جگہ پر ہے ۔وزیر اعلیٰ نے اس طرح کا قدم اٹھا کر ایک مثبت روایت قایم کی ۔لیکن اب وزیر اعلیٰ کو اس بارے میں دیکھنا چاہئے کہ ان احکامات پر کتنی تیزی کے ساتھ عمل درآمد ہورہا ہے اور کیا ان ملازمین اور افسروں کی اٹیچمنٹ ختم کردی گئی جن کو سالہاسال سے من پسند جگہوں پر رکھ کر مستحق ملازمین کی حق تلفی کی گئی ہے ۔جن محکمون کے سربراہوں یا دوسرے افسروں جو تیس پنتیس سال کی ملازمت ختم کرنے کے بعد ریٹائیر ہونے والے ہوتے ہیں تو انہیں باعزت طریقے پر ریٹائیر ہونا چاہئے تاکہ ان کے ماتحت افسروں کو آگے بڑھنے کا موقعہ مل سکے لیکن جب وہ اپنے اوپر والے افسروں وغیرہ کی چاپلوسی کرکے ایکسٹنشن حاصل کرتے ہیں تو کیا یہ مستحق افسروں کی حق تلفی نہیں کہلائی جاسکتی ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ جو افسر یا ملازم ریٹائیر ہونے والا ہو اسے باوقار طریقے پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا چاہئے تاکہ دوسرے مستحق افسروں اور ملازمین کے لئے راہ ہموار ہوسکے اور ان کو بھی آگے بڑھنے کا موقعہ مل سکے ۔وزیر اعلیٰ نے اس اجلاس میں کشمیری مہاجرین ملازمین جن کو پی ایم پیکیج کے تحت ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں کی حیثیت اور ان کی کارکردگی کے بارے میں بھی افسروں سے جانکاری حاصل کرلی ۔وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایڈمنسٹریشن کو چُست درست کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے انتظامیہ میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے اس کے علاوہ اس سے کسی کی بھی حق تلفی کے امکانات باقی نہیں رہ سکتے ہیں۔










