وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ دوسرے وزار ،سیاسی ،سماجی اور دینی رہنماوں نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں ٹینگہ پورہ بائی پاس کے المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوے روڈ سیفٹی کے بارے میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حادثات کی روک تھام کے لئے جتنا کچھ بھی ہوسکے کیا جانا چاہئے ۔کیونکہ یہ انسانی جانوں سے جڑا ہوا مسلہ ہے اسلئے اس کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ایس ایس پی صاحب نے کہا کہ اس وقت پانچ لاکھ سے زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہیں اور اتنی گاڑیوں کو کنٹرول تو نہیں کیا جاسکتاہے اسلئے گاڑیاں چلانے والوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ کسی بھی صورت میں تیز رفتاری کا مظاہرہ نہ کریں ۔ایک شہری نے اس بارے میں تجویز پیش کی ہے ۔اس شہری کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان جن میں زیادہ تر طالب علم شامل ہیں ڈرگس کا استعمال کرتے ہیں جس کا اعتراف ہر ایک کو ہے ۔اسی کے اثر تلے نوجوان ہرقسم کی گاڑیوں پر کچھ اس تیز رفتاری سے چلتے ہیں کہ دیکھ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔گاڑیوں کے بیچ میں سے موٹر سائیکل ،سکوٹر اور سکوٹیوں کو چلا کر یہ نوجوان اپنی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں ۔خاص طور پر یہ نوجوان بلیوارڈ ،فور شور روڈ ،حول شاہراہ ،بائی پاس وغیرہ پر کچھ اس تیز رفتاری سے گاڑیاں اور سکوٹر چلاتے ہیں کہ کسی بھی وقت حادثات رونما ہوسکتے ہیں ۔ایسے نوجوانوں کے خلاف سخت کاروائی تو بنتی ہی ہے اسلئے ٹریفک پولیس کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہونے پائے ۔اس سے قبل ان ہی کالموں میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جو بھی دو پہہہ والی گاڑی وادی میں داخل ہوجاے یعنی جو بھی کمپنی وادی میں فروخت کرنے کے لئے سکوٹی اور موٹر سائیکل یہاں بھیج دے تو اس کی سپیڈ لِمٹ ہونی چاہئے یعنی چالیس سے اوپر یہ نہیں چلنے چاہئے ۔اگر ایسا ہوتا تو نوجوان سکوٹیاں اور موٹر سائیکل چلانے سے احتراز کرینگے اور جو کوئی چلائے گا بھی تو وہ چالیس سے اوپر سپیڈ بڑھا نہیں سکتاہے ۔لیکن افسوس ایسا بھی نہیں کیا جاسکتاہے ۔یہ بھی سچ ہے اور جیسا کہ ایس ایس پی صاحب نے کہا کہ محکمہ ٹریفک کس طرح ہر جگہ پر موجود رہ کر ٹریفک کنٹرول کرسکتاہے ۔بہر حال یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جو خصوصی توجہ کا مستحق ہے ۔ڈرگس اور ڈرائیونگ آج کل عام ہورہی ہے ۔ڈھنگ سے ڈرائیونگ کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن آج کل ہر کوئی اس بات کی شکایت کرتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ہے ۔جو دن دھاڑے کچھ اس طرح ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ کسی بھی جگہ حادثات رونما ہوسکتے ہیں ۔جو جہاں چاہئے سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی کھڑی کرکے شاپنگ کرنے نکل پڑتا ہے ۔کوئی یہ نہیں سوچتا ہے کہ اس کی طرف سے اس طرح کی پارکنگ کرنے سے ٹریفک کا کس طرح ستیاناس کیا جارہاہے ۔رانگ پارکنگ کی وجہ سے بھی حادثات بڑھنے لگے ہیں ۔گاڑیاں چلاتے چلاتے بھی بہت سے لوگ موبایل پر گیمز وغیرہ کھیلتے ہیں یا کسی کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ہیں ۔غرض ایسے درجنوں معاملات ہیں جن پر قابو پانے سے ٹریفک حادثات کی روک تھام کی جاسکتی ہے ۔اب پولیس اور ٹریفک عملے نے سکوٹیاں ضبط کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اگرچہ اس کا ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے خیر مقدم کیا ہے لیکن لوگ چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رکھا جانا چاہئے اور اسے کسی بھی صورت میں ترک نہیں کیا جانا چاہئے ۔










