گذشتہ دنوں اخبارات میں ڈپٹی کمشنر سرینگر کے حوالے سے ایک خبر شایع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ سرینگر کے نشاط علاقے میں زبرون پہاڑی سلسلے کے دامن میں ڈپٹی کمشنر نے چارسو کنال اراضی کی نشاندہی کی ہے جس پر چنار کے درخت اگائے جاینگے اور اس طرح جو باغ معرض وجود میں آے گا اس کا نام چنار زار رکھا جاے گا۔اس سے قبل ہمارے ہاں ٹیولپ گارڈن کا وجود بھی عمل میں لایا گیا جس سے سرکار کو سالانہ لاکھوں کی آمدن حاصل ہورہی ہے ۔اس باغ سے درجنوں افراد کو روزگار بھی ملتا ہے اور اب اسی طرح چنار زار بھی تیار کیا جارہا ہے ااور اس حوالے سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چار سو کنال اراضی پر مشتمل جو باغ تیار کیا جاے گا اس پر ہزاروں چنار کے درخت لگائے جاینگے ۔فی الحال 15اگست تک اس پر 75چنار کے پودے لگائے جاینگے ۔اس کی ہدایت ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو دی ہے ۔دراصل چنار کشمیری تمدن ،تہذیب اور ثقافت کی ایک بہترین نشانی ہے جسے ہر صورت میں تحفظ دیا جانا چاہئے ۔اس سے پہلے ہم نے یعنی کشمیری عوام نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ سڑک کشادگی کی آڑ میں ،کسی تعمیراتی کام کی آڑ میں یا اسی طرح کے دو چار بہانوں کی آڑ میں جس طرح چناروں کو بے دردی کے ساتھ کاٹا گیا اس پر ہر کشمیری کی آنکھ روئی اور ہر دل بے قابو ہوگیا ۔لوگوں نے احتجاج بھی کیا ۔متعلقہ حکام کو سول سوسائیٹی کی طرف سے میمورنڈم بھی پیش کئے گئے لیکن پھر بھی چنار وں کی کٹائی کا سلسلہ جو ایک بار شروع کیا گیا اب تک رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔بعض مغربی ملکوں میں لوگوں کو درختوں کے پتے کاٹنے پر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی پورا درخت کاٹ دے تو اسے جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے ۔جبکہ اس کے برعکس یہاں لوگ بے دردی سے ہر اس درخت کو تہہ تیغ کرتے ہیں جس کے بارے میں انہیں معلوم ہوگاکہ اس سے ان کو کسی قسم کا فایدہ پہنچ سکتا ہے ۔ایسا کرتے وقت ان کے سامنے قانون کی کوئی قیمت یا کوئی قدر نہیں ہوتی ہے ۔لوگ مجموعی مفادات کو یکسر نظر انداز کرکے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اس درخت کو منٹوں میں زمین بوس کرتے ہیں جو سو دوسو سال پرانا کیوں نہ ہو۔جب ہم حکومت کی بات کرینگے تو حکومت نے بھی وقت وقت پر چنار یا دوسرے درختوں کو تہہ تیغ کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی جو کام لوگوں نے ڈر ڈر کر کیا حکومت وہ کام ڈنگے کی چوٹ پر کر رہی ہے ۔کس کس جگہ کا نام لیا جاے جہاں چنار کے درختوں کو بے دریغ نہیں کاٹا گیا ۔لیکن اب حکومت نے چار سو کنال اراضی پر چنار کے درخت لگانے کا جو وعدہ کیا ہے اس سے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔کیونکہ آج کل فضامیںکثافت پھیلی ہوئی ہے موسم انتہا کو پہنچ چکا ہے یعنی گرمیون میں انتہائی گرمی اور سردیوں میں انتہائی سردی ۔اس سال جون ،جولائی اور اب اگست میں اب تک کی سب سے ریکارڈ بارشیں ہوئی ہیں اس کے ساتھ گرمیوں کا زور بہت زیادہ محسوس کیا جارہا ہے ۔یہ سب کچھ انسانوں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے چنار لگانے سے سب سے بڑا فایدہ یہ مل سکتا ہے کہ وہ کاربن ڈایکسائیڈجذب کرتے ہیں اور انسانوں کے لئے آکسیجن خارج کرتے ہیں اسلئے اس قدم کو اٹھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔











