ایک معروف خبر رساں ایجنسی یو این آئی کی ایک خبر کل یعنی سوموار کو اخبارات نے نمایاں طور پر شایع کی ہے جس میں اس خبر رساں ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت جموں کشمیر اس ہفتے کچھ اہم فیصلے لینے کے موڈ میں ہے اور ان اہم فیصلہ جات میں ایک فیصلہ یہ بھی ہوگا کہ صارفین کو اس وقت محکمہ امور صارفین کی طرف سے جو پانچ کلو چاول فی کس ماہانہ فراہم کئے جارہے ہیں وہ دوگنا ہوجاے گا یعنی راشن اب دس بارہ کلو فراہم کئے جانے کے امکانات ہیں جبکہ ہر سال بارہ گیس سلینڈر صارفین کو دئے جاینگے ۔جہاں تک ان دونوں فیصلہ جات کا تعلق ہے ۔تو یہ عوامی مفاد کے حق میں بہتر ثابت ہونگے کیونکہ پانچ کلو راشن کی فراہمی پر لوگ پہلے برہمی کا اظہار کرچکے ہیں اور وہ بار بار اس بات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ راشن میں اضافہ کیا جاے ۔ادھر یو این آئی کے مطابق اگر حکومت اس حوالے سے کوئی مثبت فیصلہ لیتی ہے تو اس سے عوام کو کافی راحت مل سکتی ہے اور ان کو بازار سے مہنگے داموں راشن خریدنے سے چھٹکارا مل سکتاہے ۔اس کے ساتھ ہی دوسرا اہم فیصلہ گیس سلینڈروں کی فراہمی کا ہے ۔اگر موجودہ حکومت بارہ گیس سلینڈروں کی فراہمی کے احکامات صادر کرے گی تو اس سے لوگوں کو خاص طور پر سرمائی ایام میں کافی راحت مل سکتی ہے ۔کیونکہ سرما کے دوران بجلی پر کوئی بھروسہ نہیں اسلئے اگر صارفین کو بھر پور مقدار میں گیس فراہم کی جاے گی تو اس سے سرما کی سختیوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔موجودہ حکومت کو تو انتظامی سطح پر جو بھی فیصلے لینے ہونگے وہ لے سکتی ہے لیکن نیشنل کانفرنس نے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے سرکاری ذرایع کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ مختلف بورڈوں اور کمشنروں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی سرکار فیصلے لے سکتی ہے ۔اس کے علاوہ بورڈوں اور کارپوریشنوں میں نئے چئیر مینوں کے ناموں پر بھی غور و خوض کیا جارہا ہے ۔اس کے ساتھ ہی سیول اور پولیس انتظامیہ میں بھی تقرریوں اور تبادلوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتاہے ۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ سب انتظا می نوعیت کے فیصلے ہیں جبکہ حکومت کو یہ دیکھنا ہے کہ سخت ترین سرمائی ایام سر پر کھڑے ہیں اور لوگوں کو ہر وہ راحت دینے کی ضرورت ہے جس سے ان کو سرما کے دوران مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔سرمائی ایام میں اشیائے خوردنی کی بازاروں میں بروقت دستیابی اور مناسب قیمتوں پر ان کو فروخت کرنے کے عمل کو یقینی بنانا ہوگا جبکہ بجلی کے حوالے سے انتخابی منشور میں جو بھی وعدے کئے گئے انہیں پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ لوگوں نے اپنا ووٹ موجودہ حکومت کو دے کر ان پر اعتماد ظاہر کیا ہے بدلے میں لوگوں کو بھی راحت دینے کی ضرورت ہے ۔ابھی موجودہ حکومت کے ابتدائی ایام ہیں اور حکومت کو سیاست سے باہر آکر لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنانا چاہئے تاکہ عوام نے اس حکومت سے جو امیدیں باندھی ہیں وہ پوری ہوسکیں۔









