وڑودرہ۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اسپین کے وزیر اعظم مسٹر پیڈرو سانچیز نے آج گجرات کے وڈودرا میں ٹاٹا ایڈوانس سسٹم لمیٹڈ (ٹی اے ایس ایل) کیمپس میں طیاروں کی تیاری کے لیے ٹاٹا ایئرکرافٹ کمپلیکس کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس موقع پر لگائی گئی نمائش کا جائزہ بھی لیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سپین کے وزیر اعظم مسٹر پیڈرو سانچیز کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری آج ایک نئی سمت کی جانب گامزن ہے۔ C-295 طیاروں کی مینوفیکچرنگ کے ٹاٹا ایئر کرافٹ کمپلیکس کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے، بلکہ ’میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کے مشن کو بھی رفتار ملے گی۔ جناب مودی نے اس موقع پر ایئربس اور ٹاٹا کی پوری ٹیم کو اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔ وزیر اعظم نے آنجہانی جناب رتن ٹاٹا جی کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ C-295 طیاروں کی فیکٹری نیو انڈیا کے نئے ورک کلچر کی عکاسی کرتی ہے اور کہا کہ ملک میں کسی بھی پروجیکٹ کے آئیڈیا سے لے کر عمل درآمد تک بھارت کی رفتار یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ اکتوبر 2022 میں فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھے جانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مرکز اب C-295 طیاروں کی مینوفیکچرنگ کے لیے تیار ہے۔ پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی اور عمل آوری میں ہورہی بے انتہا تاخیر کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر وڈودرا میں بمبارڈیئر ٹرین کوچ مینوفیکچرنگ مرکز کے قیام کو یاد کیا اور کہا کہ فیکٹری پیداوار کے لیے ریکارڈ وقت میں تیار تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس فیکٹری میں بنی میٹرو کوچز آج دیگر ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔‘ جناب مودی نے یقین ظاہر کیا کہ آج کی افتتاحی مرکز میں بنائے گئے ہوائی جہاز بھی برآمد کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اسپین کے مشہور شاعر انتونیو ماچاڈو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ہم ہدف کی طرف چلنا شروع کرتے ہیں، ہدف کی طرف راستہ خود بخود بن جاتا ہے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت کا دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام آج نئی اونچائیوں کو چھو رہا ہے، جناب مودی نے کہا کہ اگر 10 سال پہلے ٹھوس اقدامات نہ کیے جاتے تو آج اس منزل تک پہنچنا ناممکن ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک دہائی قبل دفاعی مینوفیکچرنگ کی ترجیح اور شناخت درآمد کے بارے میں تھی اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارت میں اتنے بڑے پیمانے پر دفاعی مینوفیکچرنگ ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے ایک نئے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا، بھارت کے لیے نئے اہداف مقرر کیے، جس کے نتائج آج واضح ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ دفاعی شعبے میں بھارت کی تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح صحیح منصوبہ اور شراکت داری امکانات کو خوشحالی میں بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹریٹجک فیصلوں نے گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں ایک متحرک دفاعی صنعت کی ترقی کو ہوا دی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ’ہم نے دفاعی مینوفیکچرنگ میں پرائیویٹ شعبے کی شرکت کو بڑھایا، عوامی شعبے کی اکائیوں کو زیادہ موثر بنایا، آرڈیننس فیکٹریوں کو سات بڑی کمپنیوں میں تبدیل کیا اور ڈی آر ڈی او اور ایچ اے ایل کو بااختیار بنایا ۔‘ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی راہداریوں کے قیام سے اس شعبے میں نئی توانائی آئی ہے۔ آئی ڈی ای ایکس (دفاعی مہارت کے لیے اختراع( اسکیم کا ذکرکرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس نے پچھلے پانچ چھ سالوں میں تقریباً 1000 دفاعی اسٹارٹ اپس کی ترقی کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی دفاعی برآمدات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 30 گنا اضافہ ہوا ہے، ملک اب 100 سے زائد ممالک کو آلات برآمد کر رہا ہے۔












