کچھ روز قبل محکمہ واٹر ورکس نے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ شہر کے وسیع علاقے کو جس نہر سے پانی فراہم کیا جارہا ہے اس کی کچھ مرمت وغیرہ کے سلسلے میں دو دن 26اور 27اکتوبر کو شہر میں پانی کی فراہمی بند رہے گی ۔اس سرکیولر میں ان علاقوں کے نام بھی مشہتر کئے گئے جن میں دو دنوں تک پانی کی فراہمی معطل رہے گی ۔لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ان دو دنوں کے دوران پانی کا معقول ذخیرہ کریں اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ علاقوں کے لئے ٹینکر سروس بھی شروع کی جاے گی۔یہ اعلان سن کر لوگوں نے ابھی سے خود کو ذہنی طور پر تیار کرلیا کہ کس طرح متذکرہ بالا دو دنوں تک گھروں میں پانی کا ذخیرہ کیا جاے گا۔لیکن اچانک گذشتہ تقریباً چار پانچ دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کی نایابی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔لوگ پریشان حال کریں تو کیا کریں ؟ بغیر پیشگی اطلاع جب پانی کی فراہمی معطل رکھی گئی تو عام لوگ کس طرح اس پر قابو پائینگے کیونکہ یہ ایک ایسا مسلہ ہے جس پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہے ۔چاہے شہر خاص ہو یا سول لائینز ایریا ہر طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے ۔لوگ پریشانی کے عالم میں پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومنے پھرنے لگے لیکن دو ر دور تک پانی کا نام و نشان تک نہیں نل خشک پڑے ہیں ۔حتیٰ کہ بہت سی مساجد میں پانی نہ ہونے کی بنا پر باجماعت نمازوں کا اہتمام نہیں کیا جاسکا ۔کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاج بھی کیا ۔لیکن محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔بہت سے سرکاری دفاتر میں تعینات ملازمین اور ہوٹل مالکان نے کہا کہ اچانک پانی کی فراہمی میں خلل سے ان کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہوٹلوں میں قیام پذیر سیاحوں نے پانی کی فراہمی میں خلل کی شکایت کی ۔ایسا کیوں ہوا؟اس کے لئے کون ذمہ دار ہے اس بارے میں کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نظر نہیں آرہا ہے ۔خاص طور پر لال چوک ،بڈشاہ چوک ،کورٹ روڈ ،کوکر بازار ،مایسمہ ،مہاراج بازار ،گونی کھن اور گرد و نواح میں لوگوں نے احتجاج کیا ۔لوگوں نے کہا کہ یہ علاقے سرینگر کے مصروف ترین علاقوں میں شامل ہیں لیکن ان علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی میں خلل سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ مختلف دیہات اور قصبہ جات سے شہر آے ہوئے افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے کو کافی مشکلات پیش آئیں ۔اسلئے محکمے کو چاہئے کہ پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو اس حوالے سے کوئی مشکل پیش نہ آسکے ۔اگر کسی علاقے میں پانی کی فراہمی کسی تیکنیکی خرابی کی وجہ سے معطل رکھنا ناگزیر بن جاے گا تو اس صورت میں محکمے کو پیشگی اطلاع دینی چاہئے ۔نہ کہ اچانک لوگوں کے لئے پانی بند کرنا چاہئے ۔ادھر ابھی سرما کی دستک بھی نہیں ہوئی کہ بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہوگئی حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ تقریباً اسی فی صد علاقوں میں سمارٹ میٹر نصب کئے گئے ۔لوگ باقاعدگی سے فیس ادا کرتے ہیں ۔اگر کسی کے پاس بجلی فیس واجب الادا ہے تو وہ سرکاری محکمے ہونگے ۔عام صارف سب سے پہلے بجلی فیس ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے چوبیس گھنٹے بجلی فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔اگر چوبیس نہیں تو کم از کم بیس گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاتی لیکن وہ بھی نہیں ۔اسلئے اس جانب دونوں محکموں کو فوری توجہ دینی چاہئے اور بجلی اور پانی کی بلاخلل فراہمی یقینی بنائی جانی چاہئے ۔












