اس سے قبل بار بار متعلقہ حکام کی توجہ انسانی بستیوں پر جنگلی درندوں کی طرف سے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب مبذول کروائی گئی لیکن چونکہ اس کو روکنے کے لئے کوئی موثر کاروائی نہیں کی گئی نتیجے کے طور پر جنگلی درندے اب آدم خور بن گئے ہیں اور انسانوں خاص طور پر بچوں کو نوالہ بنانے لگے ہیں ۔حال ہی میں بیروہ کے ناجن علاقے میں تیندوے نے ایک چار برس کے معصوم بچے کو اپنا نوالہ بنایا جس کی خون میں لتھڑی اور ٹکڑوں میں بٹی لاش دو دن بعد مقامی لوگوں کی انتھک کوششوں کے بعد برآمد کی گئی۔کہا جارہا ہے کہ یہ ایک غیر مقامی مزدور کا بچہ تھا جو رہایش گاہ کے باہر کھیل رہا تھا اسی اثنا میں تاک میں بیٹا تیندوا اس پر جھپٹ پڑا اور جب تک لوگ اس کی چیخ و پکار کے بعد اس کے پیچھے دوڑ پڑے خونخوار تیندوا اسے دور جنگل کی جانب لے گیااس کی چیر پھاڑ کی اور اگلے دن بسیار تلاش کے بعد انتہائی بُری حالت میں اس کی لاش دیکھی گئی۔ابھی دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک اور بچی کی اس سے کچھ دور علاقے میں تیندوے نے چیر پھاڑ کرکے رکھ دی لیکن مقامی لوگوں کی طرف سے شور و غل مچانے پر تیندوا بچی کو وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا ۔بچی اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے ۔لوگوں نے اس موقعے پر احتجاج کیا ۔کیونکہ اب تک مختلف علاقوں خاص طور پر ضلع بڈگام میں جنگلی درندوں نے کم از کم ایک درجن سے زیادہ معصوم بچوں کو اپنا نوالہ بنایا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے اس صورتحال کو کس طرح قابو میں کیا جاے ؟وایلڈ لایف ڈیپارٹمنٹ کے ذرایع کا دعویٰ ہے کہ محکمے کے اہلکار اپنی طرف سے اس بات کی بھر پور کوششیں کرتے ہیں کہ جنگلی درندوں کو انسانی بستیوں کا رخ کرنے کا موقع نہ مل سکے اور اس مقصد کے لئے محکمے سے جو ہوسکتا ہے وہ کررہا ہے لیکن لوگوں کو بھی اس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جس سے جنگلی جانوروں کو انسانی بستیوں کی جانب رخ کرنا پڑے ۔اس بات میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ وادی میں سال 1990سے جنگلوں کا صفایا کیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پچاس سے ساٹھ فی صد تک جنگل ختم ہوگئے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگلوں کی زمین پر بے تحاشہ قبضہ کیا گیا یہاں تک کہ کاہچرائی لینڈ تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔اس کا خمیازہ اگرچہ گاﺅں والوں کو ہی اٹھانا پڑا لیکن اس کے باوجود فاریسٹ لینڈ پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔جنگلوں کے جنگل کاٹے گئے اور سبز سونے کو بے دردی سے لوٹاگیا۔اس سے کیا ہوگیا کہ جنگلی جانوروں کی قدرتی پناہ گاہیں ایک ایک کرکے ختم ہوگئیں اور ان کو کھانے پینے کے لالے پڑ گئے جس کی بنا پر وہ بھوک و پیاس سے نڈھال انسانی بستیوں کا رخ کرنے لگے ۔جنگلوں کو بے تحاشہ لوٹنے کی ذمہ داری ان گاﺅں والوں پر عاید کی جاسکتی ہے جو جنگلوں کے قریب رہتے ہیں ۔اگر وہ اس پر شور و غل مچاتے عوامی رائے عامہ اس کے خلاف منظم کرتے تو جنگلوں کی ایسی بربادی نہیں ہوتی لیکن جب انہوں نے کچھ نہیں کیا تو جنگل چوروں کو جنگل لوٹنے کا سنہری موقعہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے ۔اور آج ہم جو یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ جنگل رہے نہیں اور جنگلی درندے انسانی بستیوں کا رخ کرنے لگے ہیں ۔اب ان کی روک تھام کے لئے محکمہ وایلڈ لایف کو متحرک ہونا پڑے گا تاکہ انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔












